اس سال کے آخر تک پورے آزاد کشمیر کو ہیلتھ انشورنس دیں گے؛ وزیر اعظم عمران خان 

50

باغ،17 جولائی   (اے پی پی ): وزیر اعظم عمران خان  نے کہا  ہے کہ  ہم اس سال کے آخر تک پورے آزاد کشمیر کو ہیلتھ انشورنس دیں گے،  تاریخ میں پہلی بار ہم کم آمدنی والے طبقے کیلئے سستے اور آسان قرضہ جات پر نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم لے کر آئےہیں، کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت غریب اور کمزور طبقے کو کاروبار کیلئے بلا سود  قرضے دیے جائیں گے

 ہفتہ کو باغ آزاد کشمیر میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بھی ریاست مدینہ کی طرز پر کمزور طبقات کی بہتری اور فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کر رہے ہیں جس کے تحت پورے ملک میں ہیلتھ کارڈز کی سکیم لے کر آ رہے ہیں، کے پی کے میں سب کو ہیلتھ کارڈ دیا جا چکا ہے جبکہ رواں سال کے آخر تک پنجاب اور کشمیر کے لوگوں کو بھی ہیلتھ انشورنس دیں گے، جو غریب گھرانوں کیلئے ایک بڑی نعمت ہو گی کیونکہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پورا خاندان غربت میں چلا جاتا ہے، ا گر ان کے پاس ہیلتھ کارڈ ہو گا تو وہ 10 لاکھ روپے تک مفت علاج کرا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم لا رہے ہیں جس کے تحت بینک سستے قرضے دیں گے اور ہر مزدور، ملازم اور مکینک قسطوں پر ادائیگی کر کے اپنا گھر حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کامیاب پاکستان کا نیا پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے اور ملک کے غریب طبقات کو سود کے بغیر قرضے دیئے جائیں گے، شہروں اور دیہی علاقوں کے ہر خاندان کے ایک فرد کو بلاسود قرضہ دیں  گے تاکہ وہ اپنا کاروبار کر سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ملک میں پہلی دفعہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہر خاندان میں سے ایک فرد کو فنی تعلیم دی جائے گی جس سے خواتین بھی گھروں میں بیٹھ کر کے پیسے کما سکیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مدینہ کی ریاست کی طرز پر غریبوں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مختلف شہروں میں پناہ گاہوں کی سہولت دی تاکہ مزدور طبقہ بلامعاضہ رہائش اور کھانا کھا کر اپنا پیسہ گھر بھجوا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب نبی کریمۖ نے مدینہ کی ریاست کی بنیاد رکھی اور مسلمانوں نے پوری دنیا کی امامت کی اس کا سبب انسانیت کی فلاح و بہبود ہی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین میں 30 سال کے دوران 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر اپنا ملک کو سپر پاور بنایا ہے۔  انہوں نے کہا کہ انصاف کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی کیونکہ کوئی بھی انصاف سے بالاتر نہیں اور جس قوم میں انصاف نہ ہو وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی کا قول ہے    کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں کیونکہ جہاں انصاف نہیں ہو گا وہ قوم ترقی نہیں کر سکے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت گرانے کے دعویدار چاہتے ہیں کہ ان کو این آر او دے کر کرپشن معاف کر دی جائے اور وہ اشرافیہ اور کمزور طبقات کیلئے علیحدہ علیحدہ قانون چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں جب کوئی پکڑا جائے تو وہ این آر او کی بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں سب کیلئے ایک قانون ہے۔  انہوں نے کہا کہ جس ملک میں انصاف کا نظام اور قانون کی بالادستی ہو تو وہ ملک خوشحال ہوتا ہے اور جہاں انصاف کا نظام نہ ہو اور قانون کی بالادستی بھی نہ ہو تو وہاں ہمیشہ غربت ڈیرے ڈالے رکھتی ہے۔