مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف کی سینٹ کمیٹی  برائے دفاع و قومی سلامتی کے اجلاس میں  ملکی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ

15

اسلام آباد،14جولائی (اے پی پی):سینٹ کی قائمہ کمیٹی  برائے دفاع و قومی سلامتی کا اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سیّد کی زیر صدارت بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی  ڈاکٹر معید یوسف نے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ اجلاس 2 گھنٹے تک جاری رہا جس میں سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں پاکستان کے کردار، پاک۔امریکہ تعلقات، پاک۔بھارت تعلقات اور امریکی انخلا کے بعد افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے اثرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

 کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاک۔امریکہ تعلقات کیلئے وسیع البنیاد لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے جس میں تجارت، سرمایہ کاری، ویکسین کی تیاری، موسمیاتی تبدیلی اور عسکری تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اقتصادی رابطہ کاری کا فروغ بھی شامل ہے۔

 ڈاکٹر معید یوسف نے گزشتہ ماہ جنیوا میں اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کے بارے میں بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ افغانستان کے حوالہ سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس مسئلہ پر پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے جو اجتماعی سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے  اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغانستان کی زمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو اور اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہے،عالمی برادری کو افغان بحران بالخصوص مہاجرین کی ممکنہ نقل مکانی کے تناظر میں پاکستان کے خدشات کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ پاک۔بھارت تعلقات کے حوالہ سے ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ یہ بھارت پر منحصر ہے کہ وہ امن بات چیت شروع کرنے کیلئے بالخصوص بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے فیصلہ، مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے جیسے غلط اقدامات کو واپس لے اور گرفتار سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ جیسے رابطوں کو بحال کرے۔

 ڈاکٹر معید یوسف نے پاکستان کی جیو اکنامک حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے علاقائی رابطہ کاری، شراکت داری برائے ترقی اور امن کی خواہش جیسے تین اہم ستون ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی نیشنل سکیورٹی پالیسی کے متعلق جامع دستاویز کی تیاری کیلئے قائمہ کمیٹی برائے دفاع و قومی سلامتی کو اپنی تجاویز دینے کی دعوت دی۔

 اس موقع پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سیّد مشاہد حسین نے ڈاکٹر معید یوسف کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی قومی سلامتی بالخصوص سٹرٹیجک کمیونیکیشن اور جیواکنامکس سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دینے پر ان کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و قومی سلامتی اپنی تجاویز پیش کرے گی تاکہ حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے بارے میں تشکیل دی جانے والی پالیسی اجتماعی، وسیع البنیاد اور تمام نقطہ ہائے نظر کی نمائندہ ہو۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی میں لا فیئر کو اہم جزو بنایا جائے۔

 انہوں نے انسداد دہشت گردی کی جامع حکمت عملی کے ساتھ ساتھ انڈیا پالیسی کو بھی اختراعی اور جنوبی ایشیا کے وسیع تناظر میں ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صحت ، موسمیاتی تبدیلی، خاندانی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور پانی سمیت انسانی فلاح جیسے پہلوؤں کو بھی انسانی سکیورٹی کے عناصر میں شامل کرنے پر زور دیا جس کی ڈاکٹر معید یوسف نے مکمل حمایت کی۔ قائمہ کمیٹی کے ممبران نے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف کی جانب سے دی گئی بریفنگ پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔

قائمہ کمیٹی نے میری ٹائم سکیورٹی (ترمیمی) بل 2021 کی منظوری بھی دی۔ قائمہ کمیٹی نے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے کردار کی بھی تعریف کی اور ڈائریکٹر جنرل میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز کے دورہ کی دعوت قبول کر لی۔ اجلاس میں گذشتہ روز پاک فوج کے شہید ہونے والے اہلکاروں کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر زرقا تیمور  سہروردی، ہدایت اللہ، محمد ایوب، رخسانہ زبیری، پلواشہ محمد ضیا خان اور سیکرٹری کمیٹی میجر (ر) سیّد حسنین حیدر شریک تھے۔