الیکٹرانک ووٹنگ مشین الیکشن میں شفافیت کا بہترین ذریعہ ہے، وفاقی وزیر اطلاعات

20

 

اسلام آباد، 09 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین نے کہا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں شفافیت کا بہترین ذریعہ ہے،الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہمارا زور اس لئے ہے کہ یہ انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہے۔ یہ مشین موجودہ پیپر بیسڈ نظام سے ایک قدم آگے ہے، اس میں الیکٹرانک ٹریل کے ساتھ پیپر ٹریل بھی دستیاب ہوگی۔ای وی ایم الیکشن کمیشن کی تمام شرائط پورا کرتی ہے۔ انتخابات میں شفافیت کے حوالے سے میکنزم تیار کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے تمام کام مکمل ہے، حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے ہو گیا تو آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرائے جا سکتے ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں شفافیت کا سب سے بہترین ذریعہ ہے گے، انتخابی نتائج فوری دستیاب ہوں گے، عام طور پر انتخابات کے دوران ووٹنگ پانچ بجے ختم ہو جاتی ہے اور ہمیں نتائج کے انتظار کے لئے صبح تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کے استعمال سے انتخابی نتائج فوری دستیاب ہوں گے۔ ۔ ای وی ایم کے استعمال سے دھاندلی کے امکانات کم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 36 شرائط سامنے رکھیں اور کہا کہ اگر کوئی مشین ان 36 شرائط کو پورا کرتی ہیں تو وہ الیکشن میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ہم جو نئی ٹیکنالوجی لائے ہے، وہ الیکشن کمیشن کی تمام شرائط کو پورا کرتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  آزاد کشمیر کے انتخابات میں حکومت ن لیگ کی تھی، آزاد کشمیر کے وزیراعظم ن لیگ کے تھے، الیکشن کمیشن کے سینئر ممبر بھی آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے ہم زلف تھے، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری بھی آزاد کشمیر حکومت نے خود کی جبکہ پولیس اور انتظامیہ بھی ان کے تابع تھی لیکن جب ن لیگ کو الیکشن میں شکست ہوئی تو انہوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ آخر ایسا کونسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ ان کے الزامات دور کئے جا سکیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر وہ الیکشن ہارتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی اور جیت جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انتخابات ٹھیک ہوئے ہیں، اس حوالے سے ایک میکنزم تیار کرنا ہوگا جس سے انتخابات کی شفافیت پر سوال نہ اٹھایا جا سکے۔ انتخابات میں شفافیت کا وزیراعظم اور پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ انتخابات میں شفافیت کے لئے ٹیکنالوجی کی طرف بڑھا جائے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتخابات میں فرسٹ ورلڈ کی طرز پر شفافیت آئے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کے حوالے سے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز میں الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں۔ اپوزیشن نے ابھی تک یہ ٹیکنالوجی دیکھی ہی نہیں، اپوزیشن پہلے ان مشینوں کو دیکھے پھر اپنا فیصلہ کرے۔

ایک اور سوال کے جواب میں چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ اس وقت انتخابی اصلاحات میں تین طرح کی ٹیکنالوجیز پر بات ہو رہی ہے جن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین، انٹرنیٹ ووٹنگ اور بائیو میٹرک شامل ہیں، یہ تینوں اکٹھی نہیں ہیں۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت پانچ کمپنیاں ای وی ایم تیار کر رہی ہیں جو الیکشن کمیشن کی شرائط پو پورا اترتی ہیں۔ اب قیمت طے کرنے کا معاملہ ہے، ٹیکنالوجی کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قانونی شرائط کے دو حصے ہیں، ایک حصہ الیکشن کمیشن کو اختیارات دینے سے متعلق ہے۔ قومی اسمبلی سے اس ضمن میں بل منظور ہو چکے ہیں جو اب سینیٹ میں ہیں۔ سینیٹ کی دو کمیٹیاں اس پر کام کر رہی ہیں، سینیٹ کی پولیٹیکل کمیٹی اپوزیشن اور حکومت کے اراکین پر مشتمل ہے جس میں یہ بل زیر بحث ہیں۔ جبکہ سینیٹ کی پارلیمانی افیئرز کے بارے میں کمیٹی کے اندر بھی اس بل پر غور جاری ہے۔ اگر سینیٹ میں اس بل پر مزید ترامیم آئیں تو یہ دوبارہ قومی اسمبلی میں آئے گا اور قومی اسمبلی میں ان پر دوبارہ ووٹنگ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے ہو گیا تو اس پر جلد عمل درآمد ہو جائے گا۔ آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرانے کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے، ٹیکنالوجی کے حوالے سے کام مکمل ہو چکا ہے، ہم نے مشینیں خرید کر استعمال کرنی ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا تو اس کے اگلے روز ای وی ایم کی خریداری شروع کی جا سکتی ہے اور آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرائے جا سکتے ہیں۔