جولائی میں برآمدا ت 2.3 ارب ڈالر رہیں، میک ان پاکستان ہماری پالیسی ہے، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود اور معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی پریس کانفرنس

48

اسلام آباد۔2اگست  (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ رواں سال برآمدات کا ہدف 38.7 ارب ڈالر ہو گا، ملک سے موٹر سائیکل اور موبائلز کی برآمد جلد شروع ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 30 جون تک گڈز برآمدات میں 25.3 فیصد اضافہ ہوا۔ جون میں برآمدات ریکارڈ سطح پر رہیں، جولائی میں برآمد ات 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رہیں جو کہ اس ماہ کی ریکارڈ برآمدات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ میک ان پاکستان پالیسی پر عمل پیرا ہیں، حکومت نے اس حوالے سے جامع اور ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ حقیقت پسندانہ ہے اور برآمد کنندگان کے بقایا جات ادا کئے گئے ہیں۔ بجلی گیس کی قیمتوں کو مسابقتی سطح پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال برآمدات کا ہدف 31.3 ارب ڈالر کا تھا، گزشتہ سال برآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ آئی ٹی سیکٹر میں ہوا ہے۔ گزشتہ سال آئی ٹی سیکشن میں برآمدات میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال گڈز برآمدات کو 31.2 ارب ڈالر تک لے جائیں گے جبکہ سروسز برآمدات کو ساڑھے 7 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ اس سال برآمدات کا ہدف 38.7 ارب ڈالر ہو گا۔ پاکستان برآمدات کو 40 ارب ڈالر کے ہدف تک لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موٹر سائیکل کی پیداوار ریکارڈ سطح پر ہے، 10 ہزار موٹر سائیکلز کی برآمد کے آرڈر موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عامر اللہ والا نے ملک میں موبائل فیکٹری لگائی ہے، ملک میں مقامی موبائل کی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سال میں ٹیکسٹائل برآمدات پر انحصار کم ہو جائے گا، ملک کے دیگر شعبوں کی برآمدات شروع ہو جائیں گی۔ رواں مالی سال ٹیکسٹائل برآمدات 20 سے 21 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ایکسپورٹ پیدا ہو جائے، برآمدات میں بہتری کے سفر کو پائیدار بنانے کے خواہاں ہیں، اس سال برآمدات کا ہدف حاصل کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سام سنگ موبائل کمپنی پاکستان میں اپنا پلانٹ لگا رہی ہے، پانچ سالہ تجارتی پالیسی میں جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ہم ان پر پہلے ہی عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  موجودہ دور میں درآمدات بڑھنے کی وجہ خام مال کی درآمد ہے، گزشتہ سال مشینری کی درآمدات 10 ارب ڈالر اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات 11 ارب ڈالر رہیں۔ کپاس کی درآمدات 1.3 ارب ڈالر بڑھی ہیں، ہماری درآمدات مشینری،  فوڈ، پٹرولیم اور خام مال ہے۔