اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات ونیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ ملک میں کورونا وباکا تیزی سے پھیلاؤ ہو رہا ہے،ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے،وزیراعظم کی منظوری سے کچھ فیصلے کئے ہیں ،مارکیٹس کے اوقات رات 10سے کم کرکے8بجے تک کرنے کا فیصلہ ،ہفتے میں2روز بند رہیں گی،دفاتر میں ملازمین کی 50 فیصد حاضری کرنے کا فیصلہ کیا ہے،راولپنڈی،فیصل آباد،لاہور،اسلام آباد اور ملتان میں بندشوں کا اطلاق ہوگا،بندشوں کا اطلاق 3 اگست سے 31 اگست تک ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح بڑھنے کے پیش نظر ملک کے اہم شہروں میں 31 اگست تک نئی پابندیوں کے نفاذ رہے گا۔وزیر اعظم کی جانب سے پابندیوں کی منظوری کے بعد اسد عمر نے اہم شہروں میں نئی پابندیوں کے نفاذ کا این سی او سی کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے اس لیے نئی پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ہمیں عوام کی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے روزگار کی حفاظت بھی کرنی ہے۔انہوں نے کہا ہمیں معلوم ہے کہ ان بندشوں کے ہمارے کمزور اور غریب طبقے پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے کوئی لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے تین مرحلوں میں لاک ڈاؤن کیوں کرتے ہیں اور پہلی دفعہ میں ہی مکمل لاک ڈاؤن کیوں کرتے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے ایک بہت بڑے دیہاڑی دار طبقے کے روزگار کا تحفظ بھی کرنا ہے، اس لیے ہم بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن شہروں میں پابندیوں کا اطلاق ہو گا ان میں صوبہ پنجاب میں راولپنڈی، لاہور اور فیصل آباد شامل ہیں، خیبر پختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ تک پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔انہوں نے کہا اگر مثبت کیسز کی شرح برقرار رہتی ہے تو کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ کے بعد بھی یہ پابندیاں لاگو رہیں گی۔











