زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے تحقیق انتہائی ضروری، وزیراعظم عمران خان کا کسان کنونشن سے خطاب

33

بہاولپور۔11اگست  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کاشتکار طبقہ کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل، غربت میں کمی اور خوشحالی کیلئے کاشتکاروں کی مدد ہمارا فرض ہے، کسان کارڈ ایک انقلاب ہے  اس سے کاشتکاروں کو براہ راست سبسڈی مل سکے گی، کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ سے پاکستان کو فائدہ ہو گا، پیداوار بڑھے گی، قیمتیں کم ہوں گی، پاکستان کے مستقبل کا راستہ تحقیق ہے، پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو غربت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ وہ بدھ کو کسان کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے غذائی تحفظ و تحقیق جمشید چیمہ نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کاشتکاروں میں کسان کارڈ بھی تقسیم کئے۔ انہوں نے زرعی شعبہ میں تحقیق پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر اقبال بندے شاہ اور چین سے پی ایچ ڈی کرنے والے  ڈاکٹر علی کو ایوارڈ دیئے۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 83 لاکھ کسان ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی مدد سے ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہو گا، اس ملک کے کسان کے بارے میں یہ مہم چل رہی تھی کہ جاگیرداروں نے ملک تباہ کر دیا لیکن ملک میں صرف 26 ہزار کاشتکاروں کے پاس 125 ایکڑ سے زائد اراضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی جان کسان ہے، تحریک انصاف کے دور میں سب سے اچھا کام یہ ہوا کہ کاشتکاروں کے پاس 1100 ارب روپے اضافی گئے، اس سے قبل گنے کے کاشتکار کو شوگر ملز کے طاقتور ہونے کی وجہ سے قیمت نہیں مل رہی تھی، ملک میں قانون کی بجائے طاقتور کی حکمرانی رہی، ہم نے قانون پاس کیا کہ شوگر ملز نے کرشنگ کب شروع کرنی ہے، جو شوگر ملز طے شدہ سیزن میں کرشنگ شروع نہیں کریں گی ان کیلئے سزائیں مقرر کی گئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کسانوں کو گندم، مکئی اور گنے کی طے شدہ قیمت ملی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کاشتکار کی آمدن میں اضافہ کریں گے تو اس سے ملک کا فائدہ ہو گا کیونکہ کسان کمائے گا تو زمینوں پر لگائے گا اور اس سے ہماری پیداوار بڑھے گی، قیمتیں کم ہوں گی، ملک میں مہنگائی کی بڑی وجہ اشیاء خوردونوش کا برآمد کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1947ء میں پاکستان کی آبادی 4 کروڑ تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے 22 کروڑ ہو چکی ہے، اسی تناسب سے ہماری پیداوار میں بھی اضافہ ہونا چاہئے تھا، گندم کی ریکارڈ پیداوار ہونے کے باوجود ہم نے 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کی، عالمی سطح پر خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے یہاں بھی اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کسانوں کی جدید ٹیکنالوجی میں مدد کرنا ہے، پاکستان کے مستقبل کا راستہ تحقیق ہے، ایک وقت میں فیصل آباد یونیورسٹی تحقیق کا بڑا نام تھا تاہم آہستہ آہستہ اس میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اﷲ نے 12 موسموں سمیت بڑی نعمتوں سے نوازا ہے، یہاں پر ہر فصل اگائی جا سکتی ہے تاہم اس بارے میں تحقیق کی ضرورت ہے کہ کن علاقوں میں کونسی فصل اگائی جائے، دنیا میں کم پانی سے زیادہ پیداوار کے نئے طریقے آئے ہیں۔