اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی میں رحیم یار خان بھون شریف میں مندر توڑے جانے کے واقعہ کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، پاکستان کا آئین اقلیتوں کے تحفظ کی گارنٹی دیتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے اس واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں، پاکستان کی حکومت اور عوام نے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے، پاکستان کے قومی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن کیسومل داس نے کہا کہ رحیم یار خان میں ہندو مندر کی توڑ پھوڑ قابل مذمت ہے، اس سے دنیا بھر میں مسلمانوں کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ جب پوری قوم بھارت کی جانب سے کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدام کی مذمت کر رہی تھی ایسے میں اس طرح کے واقعات افسوسناک ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن جے پرکاش نے کہا کہ بھون شریف میں گنیش مندر کو جلایا گیا اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس واقعہ کے فوری بعد یہ معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا گیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مندر کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے ٹویٹ کیا، رات کو اس کی ایف آئی آر کاٹی گئی۔ پولیس اس وقت خاموش تماشائی کیوں رہی۔ وزارت داخلہ اس کا نوٹس لے، وہاں سے ہندو برادری نے نقل مکانی کی ہے۔ اس سے قبل کرک مندر کا واقعہ ہوا۔ ہمارے تمام مندروں میں سکیورٹی فراہم کی جائے۔ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں، تمام شرپسندوں کی ویڈیوز موجود ہیں، ان کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا۔ مندر کی تعمیر و مرمت شروع کردی گئی ہے۔ ایسے واقعات سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ یہ معاملہ وزارت داخلہ کی کمیٹی کو ارسال کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے رکن رمیش لال نے کہا کہ رحیم یار خان میں ہونے والا واقعہ افسوسناک ہے۔ وہاں پر بسنے والے ایک سو سے زائد ہندوئوں کا پانی بند کیا گیا۔ پھر مندر پر حملہ کیا گیا اس کا ذمہ دار ڈی پی او اور ڈی سی ہیں۔ واقعہ کے تین گھنٹے بعد تک پولیس نہیں آئی، کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ متعلقہ حکام کو طلب کرکے ان سے اس حوالے سے پوچھا جائے۔ رکن قومی اسمبلی شنیلہ رتھ نے کہا کہ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں۔ ہندو برادری پرامن ہے، ان سے ایسا رویہ قابل مذمت ہے۔ حکومت ہندو برادری سمیت اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ کچھ عناصر ایسے ہیں جو ایسی شرپسندی کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن لال چند نے کہا کہ اسلام ایسے واقعات کی اجازت نہیں دیتا، ایسے اقدامات سے ملک بدنام ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے فوری اس کا نوٹس لیا، اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوگئی اس میں ملوث عناصر کو سزا دی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے۔ ایسے واقعات پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ رمیش لعل ملانی نے کہا کہ ہم پہلے پاکستانی پھر ہندو ہیں۔ ہمیں برابر کے حقوق ملے ہیں لیکن بعض شرپسند ایسے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن ریاض مزاری نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے، اسلام کے نام پر یہ شدت پسندی کی جاتی ہے۔۔ رمیش کمار وینکوانی نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے۔ اس حوالے سے قرارداد لا رہے ہیں۔ اس واقعہ کے فوری بعد وزیراعظم نے ایکشن لیا، سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بعض عناصر وقتاً فوقتاً اسلام کو بدنام کرنے کے لئے واقعات کرتے ہیں۔ حکومت کی رٹ نہ ہونے سے ایسے فسادات ہوتے ہیں۔ اسلام امن کا دین ہے، ہم اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا بھی احترام کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن جمال الدین نے کہا کہ جمعیت نے ہمیشہ ایسے واقعات کی مذمت کی ہے۔ اسلام کے نام پر بنے ملک میں مساجد کو بھی گرایا جاتا ہے، جنوبی وزیرستان حالت جنگ میں ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے۔ ایسے واقعات کے سدباب کے لئے مل کر کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جائے، یہی اسلام کی تعلیمات اور قائداعظم کے فرمودات ہیں۔ یہاں بسنے والوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ ان کے مذہبی مقامات مقدس ہیں۔ ہر پاکستانی کو بلاخوف و خطر اپنے مذہب کے مطابق عبادت کا حق حاصل ہے۔ یہ انتظامیہ کی بھی ناکامی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن مہناز اکبر عزیز نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے۔ پاکستان جتنا مسلمانوں کا ہے اتنا ہی اقلیتوں کا بھی ہے۔ ان کو بھی اپنی مذہبی آزادی سے عبادت کا حق حاصل ہے۔ ہمارے قومی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کا ہے۔ ایم کیو ایم کی رکن کشور زہرہ نے کہا کہ ایم کیو ایم قائداعظم کے پاکستان پر یقین رکھتی ہے۔ ہم اس واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ صلاح الدین نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم اسے دہشتگردی سمجھتے ہیں۔ ایسے واقعات کو مدارس سے جوڑنا قابل مذمت ہے۔ مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے، اس پر حکومت رپورٹ پیش کرے۔ محسن داوڑ نے کہا کہ رحیم یار خان کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ یہ دہشتگردی ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اس واقعہ کا وزیراعظم نے نوٹس لیا، آئی جی کو احکامات دیئے کہ اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کریں۔ پولیس کی سستی پر کارروائی کی ہدایت کی۔ وزارت انسانی حقوق بھی رحیم یار خان انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔ وزیراعظم نے اس مندر کی مرمت کے احکامات دیئے۔ اس معاملہ پر سیاست نہ کی جائے، صوبائی حکومت بھی اس پر کارروائی کر رہی ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام مذاہب کے پاکسانیوں کو مساوی حقوق دیتا ہے۔ عبادت گاہوں کا تحفظ آئین دیتا ہے، ہم سب پہلے پاکستانی ہیں۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے، مسلمان اگر غیر مسلم کے حقوق سلب کرے گا تو نبی کریمۖ نے قیامت کے دن اس پر خود پوچھنے کی بات کی ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائے۔ جو بھی اس واقعہ میں ملوث ہیں وہ انسان ہی نہیں۔ حکومت کی جانب سے علما نے اس کی مذمت کی ہے۔ اقلیتوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملہ پر ہم سب ایک ہیں۔ ہم خود بابری مسجد کو رو رہے ہیں۔ کشمیر میں جو ہو رہا ہے اس پر تمام پاکستانی گزشتہ روز کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کی طرف سے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم ہندو برادری سے ہمدردی کرتے ہیں۔ حکومت نے ہمیشہ ایسے واقعات کی مذمت کی ہے۔ ہمارا قومی پرچم اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ہماری عدالتیں، مدارس ایسے واقعات کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اس کے الٹ عدالتیں بابری مسجد جیسے سانحہ میں انصاف نہیں دیتیں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان بھون شریف رحیم یار خان میں مندر کو توڑنے اور سخت نقصان پہنچانے کے واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہے اور اس دکھ میں اپنی ہندو برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کی سخت مذمت کی اور اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی۔ پاکستان کا آئین اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ اس مسئلے پر پوری حکومت اور قوم ایک ہے۔ اسلام اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتا ہے، یہ ایوان اقلیتوں کو ان کے حقوق کے مکمل تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے۔











