موسمیاتی تبدیلیاں،اقوام متحدہ نے انسانیت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

56

اسلا م آباد، 10 اگست  (اے پی پی ):موسمیاتی تبدیلیاں،اقوام متحدہ نے انسانیت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔اقوام متحدہ نے عالمی سطح پر تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے خبردار کرتے ہوئے  ماحولیاتی تبدیلی کے بارے پہلا بڑا سائنسی جائزہ پیش کیا۔

موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے 42 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی  گئی ۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق  انسان دنیا کے ماحول پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے، ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسز کا اخراج بند کرنا ہو گا،  موجودہ رجحان جاری رہا تو ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

جائزہ رپورٹ میں   بتایا  گیا کہ صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کا خدشہ ہے، گرین ہائوس گیسوں کے اخراج پر قابو پاکر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

آئی پی سی سی رپورٹ  کے مطابق زمین کی سطح کا درجہ حرارت1850 سے 1900تک اتنا گرم نہیں تھا، حرارت 2011 سے 2020 کے درمیان نسبتا زیادہ رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے،گذشتہ پانچ برس 1850کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے، حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ 1901سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ میں   بتایا  گیا کہ گلیشیئر اور قطب شمالی میں برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ 90 فیصد انسانی عوامل ہیں،  یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب مزید عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی اور سمندر گرم ہوتے رہیں گے اور مزید تیزابیت کا شکار ہو جائیں گے، پہاڑی اور قطبی گلیشیر کئی دہائیوں یا صدیوں تک پگھلتے رہیں گے۔

رپورٹ  سے  متعلق سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ  رپورٹ انسانیت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  اس معاملے میں تاخیر یا غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے   کیلئے  موجودہ منصوبے عوام کی حفاظت کیلئے ناکافی ہیں، منصوبوں کو موسمیاتی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے بدلنے کی ضرورت ہے۔ماہرین کے  مطابق  اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں تقریباً دو میٹر اضافہ ہو سکتا ہے،  2150 تک پانچ میٹر اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اور  2100 تک سیلاب ساحلی علاقوں میں مزید لاکھوں لوگوں کے لیے خطرہ بن جائیں گے جبکہ  2040 تک عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری تک اضافہ ہو جائے گا۔

ماہرین  نے  انتباہ  کیا  ہے کہ ہمارے موجودہ منصوبے لوگوں کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہیں،ہمیں اپنے منصوبوں کو موسم کے بدترین بحران کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

واضح  رہے کہ یہ جائزہ اس حوالے سے رپورٹوں کی سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی،  یہ 2013  کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے، جو گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26  سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔