پاکستان اور نائیجر کے درمیان وسیع تر پارلیمانی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے؛ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

10

اسلام آباد،6اگست  (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور نائیجر کے درمیان وسیع تر پارلیمانی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،دونوں ممالک میں بے پناہ معاشی صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں باہمی مفاد کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے،پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں نائیجر کی قومی اسمبلی کے صدر سینی اومارو سے ملاقات میں کہی۔ صدر سینی اومارو پارلیمانی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر ہیں۔

سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان امن اور استحکام کے ماحول میں پائیدار ترقی کے اجتماعی حصول پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرحدوں سے بالاتر ہو کر سماجی اقتصادی ترقی اور روابط کے قیام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

 اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہے اور ہمیشہ امن کے لئے کوشاں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل دنیا اور خطے میں ہنگاموں اور تنازعات کے موجب ہیں۔

سپیکر نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کے منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائیجر کو بطور او آئی سی کے فعال رکن کو فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو او آئی سی کی سطح پر فعال طور پر اجاگر کرنا چاہئے۔ انہوں نے  کہا کہ بھارتی افواج کا کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔

 سپیکر اسد قیصر نے پاکستان کے نائیجر سے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ دونوں ممالک مذہب کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی پارلیمنٹری فورمز میں نائیجر کی جانب سے پاکستان کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے نیامے میں منعقدہ او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کشمیر پر نائیجر کی مکمل حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پارلیمانی سطح پر وفود کے تبادلے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نائیجر کی قومی اسمبلیوں کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یاداشت پر موثر عملدرامد سے دونوں ممالک کو مزید قریب لایا جاسکے گا۔

سپیکر نے پاکستان میں جاری اقتصادی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے آنے سے پاکستان میں بے پناہ معاشی سرگرمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ نائجیر کے سرمایہ کار سی پیک کے منصوبوں میں شمولیت اختیار کر کے حکومت کی طرف سے دیئے گئے اکنامک پیکیج سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان روابط کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اپنے ہم منصب کو پاکستان کے انگیج افریقہ کے اقدام سے آگاہ کرتے ہوئے اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان افریقی براعظم میں دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے مواقع تلاش کرنے کے بارے میں پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ پر ایک رابطہ گروپ قائم کیا گیا ہے تاکہ پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ دورہ دونوں پارلیمانوں کو مزید قریب لانے میں ایک قدم ثابت ہوگا۔

نائیجر کی قومی اسمبلی کے صدر سینی اومارو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ریمارکس کو سراہتے ہوئے کہا کہ نائیجر کی سیاسی قیادت اور عوام پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ان باہمی  تعلقات اور تعاون کو بڑھانے کیلئے خواہشمند ہے اور ٹھوس اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائیجر تمام کثیر الجہتی فورموں پر پاکستان کی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے دوستی گروپوں کی سطح کے ذریعے پارلیمانی تعاون کو پڑھانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔

ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے مابین تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گیے۔ مفاہمتی یادداشت پر قومی اسمبلی پاکستان کی جانب سے سپیکر اسد قیصر اور نائیجر کی قومی اسمبلی کی جانب سے اس کے صدر سینی اومارو نے دستخط کئے۔