اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانے سے ماحول پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، نوجوان سائنس دانوں، یونیسکو، پاکستان سائنس فاونڈیشن اور متعلقہ حکام کو ماحول کی بہتری کے لیے شعوری کوششیں کرنی ہیں۔ وہ بدھ کو یہاں پاکستان سائنس فاونڈیشن (پی ایس ایف) میں ”انسانی صحت کو بہتر بنانے کے لیے موثر پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ کے چیلنجز اور حکمت عملی” کے بارے میں پہلی ورکشاپ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے قابل ذکر اقدامات کئے ہیں، بلین ٹری سونامی پراجیکٹ اس سمت ایک اہم قدم ہے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس مسئلہ کی جانب بھرپور توجہ مرکوز کی ہے، ماحول کے مسئلہ کو ترجیح دینا ہوگی کیونکہ اس سے مستقبل کی نسلوں پر اثر پڑے گا، اس ضمن میں ہمیں لوگوں کو آگاہی دینی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے، پاکستان اس سے سخت متاثر ہوا ہے، ماحولیات کی وزارت ماضی میں اتنی متحرک کبھی نہیں تھی جتنی اس وقت ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے اس موقع پر ماحولیاتی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی تجویز پیش کی اور کہا کہ ماحول کو بہتر بنانے کے لئے تحقیق کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ٹیکنالوجی اور اقدامات کے ساتھ ساتھ پالیسیوں پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے ہمیں یہ یاد دہانی کرائی ہے ہماری صحت، معیشت، فوڈ سیکورٹی، ماحولیات اور لوگوں کی بہتری سمیت دیگر معاملات باہم جڑے ہوئے ہیں، دنیا بھر میں ماحول کی خراب صورتحال سے انسانی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اگرچہ ماحولیات کی بہتری کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں تاہم مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو ماحولیات میں سب سے ذیادہ متاثر ہے، پلاسٹک ویسٹ سے انسانی زندگی کو سنگین بیماریاں لاحق ہیں، پلاسٹک انسانی زندگیوں کیلئے مسلسل خطرہ بنتا جارہا ہے، ہسپتالوں کے ویسٹ سے بنائے جانے والی ایشیا سے نئی بیماریاں جنم لے ہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اطلا قی تحقیق ماحولیاتی طور پر ذمہ دار ملک کے لیے پاکستان میں فضلے کے موثر انتظام کے لیے بڑی صلاحیت اور اہمیت رکھتی ہے،کم قیمت ری سائیکلنگ مشینری تیار کرنے کے لیے ایک انٹر یونیورسٹی مقابلہ منعقد کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے مقابلہ جیتنے والے ، انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی اور رنر اپ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کو ایوارڈز دیئے۔ سیمینار کا اہتمام پاکستان سائنس فاؤنڈیشن نے یونیسکو، یواین ڈی پی اور دیگر اداروں کے تعاون سے کیا تھا۔ یونیسکو کی کنٹری ڈائریکٹر پیٹریشیا میک فلپس نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 50 سال میں دنیا بھر میں پلاسٹک کا استعمال بڑھ گیا ہے، پلاسٹک سے ماحول پر مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں، پلاسٹک کے استعمال سے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کے لئے عوام میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہئیے۔ قبل ازیں پاکستان سائنس فاونڈیشن (پی ایس ایف) کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد محمود بیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے پاکستان سائنس فاونڈیشن دیگر اداروں اور تنظیموں کے ساتھ طویل عرصہ سے کام کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ روزانہ ہزاروں ٹن کوڑا جمع ہوتا ہے جس میں سے صرف 10 فیصد ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ تقریب سے ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے ڈاکٹر ربنواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے سخت نقصانات ہیں، 90 فیصد بوتلوں میں پلاسٹک کے ذرات پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے مضر ہیں۔ سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر اختر نذیر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔











