کے پی ٹی نے بہتر مینجمنٹ کے ذریعے 600 ملین روپے سے زائد کی بچت کی ہے،وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی کی میڈیا سے گفتگو

26

کراچی۔4اگست  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے بیشتر مسائل کو حل کرلیا گیا ہے جبکہ بہتر منیجمنٹ کے نتیجے میں 600 ملین روپے سے زائد کی بچت کی گئی ہے۔ بدھ کے روز کے پی ٹی آئل پیئرز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی کو بہت سے مسائل کا سامنا تھا جن میں زمینوں پر غیر قانونی قبضے ، غیر قانونی الاٹمنٹ ، قرضے اور دیگر معاملات شامل تھے اور مئوثر انتظامی امور کے نتیجے میں بعض مسائل کو حل کرلیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن یہ صحیح سمت پر ہے،ڈریجر کی دیکھ بھال کے لیے اسپیئر پارٹس خریدے گئے لیکن بدقسمتی سے اسے مرمت یا ٹھیک نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اب نیب اس معاملے کی انکوائری کر رہا ہے، ہم نے تعمیر نو کے بعد آئل پیئر 3 کو دوبارہ کھول دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین کے پی ٹی کی مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع کے لئے سمری کابینہ اور اسٹیبلشمنت ڈویژن میں منظوری کے لئے بھیجی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے علاوہ دو نئی شپینگ کمپنیاں رجسٹریشن کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میںبحری جہازوں کی برتھنگ کے لئے رشوت وصول کی جاتی تھی، اس حوالے سے ایک شفاف پالیسی تحت عملدرآمد شروع کیا گیا ہے تاکہ کرپشن کا خاتمہ کیا جاسکے۔ کلفٹن کے ساحل پر پھنسے ہوئے غیر ملکی جہاز کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سید علی حیدر زیدی نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں مئوثر اقدامات کئے ہیں تاکہ جہاز سے تیل نکل کر ساحل کو آلودہ نہ کرے۔ سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کا انکشاف دو ماہ قبل ہوگیا تھا لیکن صوبائی حکومت اس حوالے سے مئوثر اقدامات اور ایس او پیز پر عملدرآمد پر ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی ایس او پیز کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئیے۔ایک اور سوال کے جواب میں سید علی حیدر زیدی نے کہا کہ ویسٹ وہارف پر فیری سروس کے لیے ٹرمینل تیار ہے اور نجی کمپنی اکتوبر میں فیری سروس شروع کرے گی۔