لاہور۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت ا ور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان معاملے پر صدر بائیڈن کی اب کی بات عمران خان کا 2007 کا بیانیہ ہے۔۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ہماری پالیسی دنیا کے ساتھ ہے ۔امریکی صدر جوبائیڈن جو بات آج کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کے معاملات کا سیاسی حل ہونا چاہیے پاکستان یہی بات آج سے سالوں پہلے کہہ رہا تھا،وزیر اعظم عمران خان 2007 سے کہہ رہے تھے کہ سیاسی حل کی طرف بڑھیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مغرب اتنا نقصان ہونے کے بعد یہ بات کہہ رہا ہے اورپاکستان نقصان ہونے سے پہلے اس طرف توجہ دلا رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی یہ ہے کہ ہم ایک عام افغان کو چھوڑ نہیںسکتے ، ہمارے لئے ایک عام افغان کی زندگی کی بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جو ان لوگو ں کو حاصل ہے جو افغانستان سے انخلا کے ذریعے باہر چلے گئے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلا کے لئے بڑا کام کیا ہے ،اس میں ہماری پی آئی اے کابڑا کردارہے ، ہمارے سفارتخانے نے بڑا کام کیا ہے ،غیر ملکی میڈیا کے نمائندوںکے لئے ہماری وزارت اطلاعات نے متحرک کردار ادا کیا ، ہمارے بارڈرزکھلے ہوئے ہیں،فضائی راستے کھلے ہیں اورہم ان کی مددکے لئے تیار ہیں او ریہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا کہ جولوگ کابل رہ گئے ہیں ان کی پرواہ نہ کریں تو یہ مناسب نہیں ، ہمارے لئے وہ بھی اہم ہیں جن کا انخلا ہوا اور وہ بھی اہم ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں ، ہمارے لئے دونوں اہم ہیں ۔ اگر ہم کہیں جوپیچھے رہ گئے ہیں ہم انہیں چھوڑ دیں تو افغانستان میں عدم استحکام پیدا ہوگا او ریہ دنیا کے مفادمیں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ پاکستان آئے ،وزیر اعظم عمران خان کی غیر ملکی لیڈروں سے بات چیت ہوئی ہے ، شاہ محمود قریشی کی ڈیڑھ درجن سے زائد وزرائے خارجہ سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ، افغان حکام کے ساتھ قریبی رابطہ ضروری ہے تاکہ ہم ایک ایسی حکومت کی طرف آگے بڑھیں جو افغانستان میں تمام گروپوں اور لوگوں کے لئے قابل قبول ہو اور استحکام آ سکے۔ بھارت ہماری ان کوششوںپر کیوں تنقید کر رہا ہے؟ ۔بھارت کی افغانستان سے ایک انچ سرحد نہیں ملتی ۔ بھارتی میڈیا کے شور سے تو ایسا لگتا ہے کہ افغانستان اس کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ،آپ اپنا کام کیجیے ، یو پی الیکشن آرہے ہیں آپ وہ لڑیں ،آپ افغانستان پر توجہ کر کے کیوں بیٹھے ہیں، نہ آپ کا افغانستان سے تعلق تھا ،ہے اورنہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے حوالے سے ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ وہاں پر استحکام چاہیے اور بھارت کا اس میں کوئی کردارنہیں ہے ، بھارت کو جب بھی کرداردیا گیا انہوں نے افغانستان کی زمین کوپاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لئے استعمال کیا ہے اور یہ ہمیں قطعا قبول نہیں ہم قطعی طور پر اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی افغانستان کی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکے۔











