اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام شریف فیملی سے لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری چاہتے ہیں، شہباز شریف کا کیس روزانہ کی بنیاد پر چلے تو وہ اگلے چھ ماہ میں کم از کم 25 سال کے لئے جیل جا سکتے ہیں، پارلیمان کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابی اصلاحات پر بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ بات چیت وقت ضائع کرنے کے لئے نہیں بلکہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے ہونی چاہئے، ہم ای وی ایم اور آئی ووٹنگ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، آج پاکستان کی معیشت میں اہم حصہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات ہیں، اگر ہم نے انہیں ووٹ کا حق نہ دیا تو ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی، کابینہ نے چاند کی رویت کے بارے میں نجی اعلانات پر پابندی عائد کر دی ہے، 2013 میں سڑکوں کے ٹھیکے 2021 کے ٹھیکوں کے مقابلے میں مہنگے تھے، این ایچ اے اب جو سڑک بنا رہی ہے وہ 2013 کے مقابلے میں فی کلو میٹر تقریباً 10 کروڑ روپے سستی تعمیر ہو رہی ہے، کابینہ نے ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان (ٹی آئی پی) کی نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کو منتقلی کی منظوری دے دی ہے، این آر ٹی سی ہری پور کے قریب فیوچر ٹیکنالوجیز کا یونٹ بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں بلند عمارتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، مختلف شہروں میں ہوائی اڈوں کے قریب بلند عمارتوں کیلئے این او سی کی شرط ختم کرنے اور لوگوں کو بلند عمارتیں تعمیر کرنے کی جانب راغب کرنے پر بات ہوئی۔ بلند عمارتوں کی تعمیر سے شہروں کا بے ہنگم پھیلائو روکنے میں مدد ملے گی، ہم ہائی رائز بلڈنگ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ پر چار رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو عالمی معیارات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی ایک ہفتہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اسد عمر اور فیصل سلطان کو کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔











