لاہور۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت ا ور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے افغان سر زمین کو دہشت گردی کے لیے استعما ل کیا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کی جو صورتحال ہے اس میں خصوصاً بھارتی میڈیا پر حیران ہوں۔ ویسے تو ہماری بھارت کے ساتھ تجارت بند ہے لیکن میں کابینہ کے آئندہ اجلاس میں یہ تجویز پیش کروں گا کہ پاکستان کو بھارت کو ”برنال ”ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہاںبہت جلن ہے ۔ پاکستان کے آئی ایس آئی چیف نے کابل کا دورہ کیا ہے اس پر بہت بات ہو رہی ہے ۔کیا اس سے قبل امریکہ کی سی آئی اے چیف وہاں نہیںگئے ،ترکی اور قطر کے انٹیلی جنس چیف نے کابل کا دورہ نہیں کیا؟۔ پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی ورکنگ ہوتی ہے ، علاقے میں تعلقات اورسیاست کو دیکھنا ہوتا ہے،افغانستان میں جو ہوتا ہے اس کے پاکستان میں بڑے گہرے اثرات ہوتے ہیں، وہاں سے اگر ہجرت ہوتی ہے تو سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر پڑتے ہیں ، وہاں اگر سیاسی عدم استحکام ہے تو سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے ،اگر افغانستان دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بنتا ہے تو اس کے پاکستان پر اثرات آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا افغانستان کے ساتھ گہرا سٹریٹجک تعلق ہے اور اس کے معیشت ،سیاسی ،سماجی اور معاشی تعلق پر اثرات آتے ہیں، ہم افغانستان کی صورتحال پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے ۔انہوںنے کہا کہ اس وقت افغانستان کے اندر سیاسی حکومت نہیں او رایک خلا ہے ، ایسے میں انٹیلی جنس کے غیر روایتی روابط ہوتے ہیں جو بر قرار رہیں گے۔اگر پاکستان کے وزیر خارجہ وہاں جائیں گے تو کس سے ملاقات کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ہماری پالیسی دنیا کے ساتھ ہے ۔امریکی صدر جوبائیڈن جو بات آج کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کے معاملات کا سیاسی حل ہونا چاہیے پاکستان یہی بات آج سے سالوں پہلے کہہ رہا تھا،وزیر اعظم عمران خان 2007 سے کہہ رہے تھے کہ سیاسی حل کی طرف بڑھیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مغرب اتنا نقصان ہونے کے بعد یہ بات کہہ رہا ہے اورپاکستان نقصان ہونے سے پہلے اس طرف توجہ دلا رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی یہ ہے کہ ہم ایک عام افغان کو چھوڑ نہیںسکتے ، ہمارے لئے ایک عام افغان کی زندگی کی بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جو ان لوگو ںکو حاصل ہے جو افغانستان سے انخلا کے ذریعے باہر چلے گئے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلا کے لئے بڑا کام کیا ہے ،اس میں ہماری پی آئی اے کابڑا کردارہے ، ہمارے سفارتخانے نے بڑا کام کیا ہے ،غیر ملکی میڈیا کے نمائندوںکے لئے ہماری وزارت اطلاعات نے متحرک کردار ادا کیا ، ہمارے بارڈرزکھلے ہوئے ہیں،فضائی راستے کھلے ہیں اورہم ان کی مددکے لئے تیار ہیں او ریہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا کہ جولوگ کابل رہ گئے ہیں ان کی پرواہ نہ کریں تو یہ مناسب نہیں ، ہمارے لئے وہ بھی اہم ہیں جن کا انخلا ہوا اور وہ بھی اہم ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں ، ہمارے لئے دونوںاہم ہیں ۔ اگر ہم کہیں جوپیچھے رہ گئے ہیں ہم انہیں چھوڑ دیں تو افغانستان میں عدم استحکام پیدا ہوگا او ریہ دنیا کے مفادمیں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ پاکستان آئے ،وزیر اعظم عمران خان کی غیر ملکی لیڈروں سے بات چیت ہوئی ہے ، شاہ محمود قریشی کی ڈیڑھ درجن سے زائد وزرائے خارجہ سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ، افغان حکام کے ساتھ قریبی رابطہ ضروری ہے تاکہ ہم ایک ایسی حکومت کی طرف آگے بڑھیں جو افغانستان میں تمام گروپوں اور لوگوں کے لئے قابل قبول ہو اور استحکام آ سکے۔ بھارت ہماری ان کوششوںپر کیوں تنقید کر رہا ہے؟ ۔بھارت کی افغانستان سے ایک انچ سرحد نہیں ملتی ۔ بھارتی میڈیا کے شور سے تو ایسا لگتا ہے کہ افغانستان اس کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ،آپ اپنا کام کیجیے ، یو پی الیکشن آرہے ہیں آپ وہ لڑیں ،آپ افغانستان پر توجہ کر کے کیوں بیٹھے ہیں، نہ آپ کا افغانستان سے تعلق تھا ،ہے اورنہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے حوالے سے ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ وہاں پر استحکام چاہیے اور بھارت کا اس میں کوئی کردارنہیں ہے ، بھارت کو جب بھی کرداردیا گیا انہوں نے افغانستان کی زمین کوپاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لئے استعمال کیا ہے اور یہ ہمیں قطعا قبول نہیں ہم قطعی طور پر اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی افغانستان کی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکے۔











