قیدیوں کے 127 سالہ پرانے جیل قوانین تبدیل اور قیدیوں کو کار آمد شہری بنانے پر توجہ دیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار

4

لاہور۔13اکتوبر  (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے قیدیوں اورجیل عملے کیلئے 5ارب50کروڑ روپے کے خصوصی پریزن پیکیج کا اعلان کردیا ہے۔وزیراعلی عثمان بزدارنے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں قیدیوں اورجیل عملے کیلئے خصوصی پیکیج کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ1894کے 127سالہ پرانے جیل قوانین، قواعد اور روایات کو تبدیل کیا جائے گا۔ قیدیوں کیلئے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔قیدیوں کو قابل نفرت بنانے کی بجائے معاشرے کا مفید شہری بنانے پر توجہ دی جائے گی۔قیدی قابل نفرت نہیں ہوتے،صرف جرم قابل نفرت ہوتاہے۔قیدی انسان ہیں اورانسان قابل صلاح ہوتا ہے۔قیدیوں کو معاشرے کا کار آمد شہری بنانے پر توجہ دیں گے۔وزیراعلی عثمان بزدارنے عید میلادالنبی کی مناسبت سے قیدیوں کی سزامیں 60 یوم کی عام معافی کا اعلان کیا اورکہا کہ قیدیوں کو میٹرس، کمبل اور تکیہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔ سخت سردی کے موسم میں اسیران کے لئے تمام جیلوں میں گیزر نصب کئے جائیں گے۔جیلوں میں ایل سی ڈی ٹی وی پر کیبل نیٹ ورک کے ذریعے نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینل دکھائے جائیں گے۔ میں نے آج جیل میں کیبل نیٹ ورک سسٹم کا افتتاح کیا ہے۔جیلوں میں سیل اور بیرکوں میں ائیرکولر، ایگزاسٹ فین، ایل ای ڈی لائٹس اور اضافی پنکھے نصب کئے جائیں گے تاکہ قیدیو ں کو موسم کی سختی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انڈسٹریز کے تعاون سے جیلوں میں قیدیوں کی تیارشدہ مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے ہر قیدی کو ماہانہ بنیاد پر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نادارو غریب قیدیوں کیساتھ کم عمر اسیران کو بھی پی سی او سے اہل خانہ سے گفتگو کی سہولت دی جائیگی۔ خواتین قیدیوں کو ضرورت کی تمام اشیا فراہم کی جائیں گی۔خواتین قیدیوں کے ساتھ 6سال تک کے بچوں کیلئے تعلیم، تفریحی سہولیات اور ڈے کیئر سینٹر کا اہتمام کیا جائے گا۔بچوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کمسن قیدیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گااوران کے استحصال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔پنجاب سپورٹس بورڈ اورپنجاب پریزن فانڈیشن کے اشتراک سے قیدیو ں کیلئے سپورٹس اور دیگر تفریحات کا اہتمام کیا جائے گا۔پنجاب لٹریسی ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل کمیشن فار ویمن ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے قیدیو ں کیلئے تعلیم کا اہتمام کیا جائیگا۔ محکمہ صحت ہر ماہ تمام جیلوں میں قیدیوں کیلئے میڈیکل کیمپ لگائے گا۔انہوں نے کہا کہ جیل ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہتر سہولتوں کیلئے جدید طبی آلات اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔ ڈاکٹروں اور عملے کی خالی آسامیو ں کو پر کیا جائے گا۔ ڈاکٹرز کو تنخواہ کے ساتھ خصوصی الانس بھی دیا جائے گا۔ایمرجنسی کی صورت میں قیدیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے ہر جیل کو ایمبولینس کی سہولت فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ، بجلی کی بندش اور خرابی کے امور کو حل کرنے کیلئے تمام جیلوں کو بتدریج سولر انرجی پر منتقل کیا جائیگا۔