ملتان 18 نومبر (اے پی پی ): سابق وائس چانسلر بہاؤ الدین زکر یا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طارق محمودانصاری نے کہا ہے کہ بچے ہمارا قومی سرمایہ ہے۔ان کی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری قومی ذمہ داری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعور ترقیاتی تنظیم۔چائلڈ رائٹس کمیٹی۔ایس پی او اور شمع بناپستی و مسلم ہاء سکول کے اشتراک سے بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے ہفت روز ہ تقریبات کے سلسلے میں بچوں کے میلے سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیاجبکہ کوارڈینیٹر سی آر سی شاہد محمود انصاری۔ ماہر قانون خالد جاوید بخاری ایڈووکیٹ۔پرنسپل ادارہ ہذا رانا اسلم انجم۔ فوکل پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو آصفہ سلیم ملک،میڈم زبیدہ،چیف کوآرڈینیٹر سول سائٹی فورم گلناز کاشف۔ حنیف چوہان۔ مارکیٹنگ منیجر شمع بناسپتی عمران اعظمی،سسٹنٹ ڈاکٹرسوشل ویلفیئر نند لال مہمانان خصوصی تھے۔جبکہ اس موقع پر جنرل سیکرٹری سی آر سی میاں وقاص فرید قریشی۔ جنرل سیکرٹری سول سوسائٹی چوہدری منصور احمد۔شمائلہ شاہ۔ جنرل سیکرٹری ایس ٹی ٹی ملک امیر نواز۔ فہمیدہ کبیر۔ اقبال خان بلوچ۔ ملک یوسف۔مختار سومرو۔ راو ذوالفقار ودیگر شریک تھے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ پوری دنیا میں بچوں کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے کیونکہ بچے ہی کسی بھی ملک وقوم کے وارث ہوتے ہیں۔پاکستان میں بچوں کیلئے سازگار ماحول دراصل ملکی وقار کیلئے بے حد ضروری ہے۔آج ہماری قوم کے بچوں کو جن مسائل وافکار کاسامنا ہے ان کے حل کیلئے ہمیں سنجیدہ کوششیں جاری رکھنی ہونگی۔موجودہ حکومت نے بچوں کے لیے یکساں نظام تعلیم اور تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دیکر احسن اقدام اٹھا یا ہے۔ملتان میں بچوں کے دن کی مناسبت سے تقریبات کا انعقاد دراصل بچوں کی حوصلہ افزائی کے رویوں کو تقویت دینگی۔ اس موقع پر کوارڈینیٹر سی آر سی شاہد محمود انصاری۔ خالد جاوید بخاری ایڈووکیٹ،رانا اسلم انجم،آصفہ سلیم ملک،گلناز کاشف،نندلال نے مشترکہ خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی تعلیم کافروغ ہماری اولین فوقیت ہونی چاہیے چائلڈ لیبرکا خاتمہ اور بچوں کا تحفظ آج کے دور اہم تقاضا ہے۔ پروفیسر میڈم زبیدہ،محمد حنیف چوہان،چوہدری منصور احمد،ملک امیر نواز،وقاص فریدقریشی،مختار سومرو،حکیم اقبال بلوچ،راؤ ذوالفقار نے مشترکہ طورپر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بچوں کے لیے فرینڈلی کنٹری ہے۔یہاں پر بچوں کی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ بچوں سے متعلقہ قوانین نافذ ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا معاشرہ بچوں کی پروٹیکشن اور شفقت پر مبنی ماحول پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔











