کوئی فرد و طبقہ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا؛ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

28

اسلام آباد،27دسمبر  (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ امور اور پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پیغام پاکستان نے خوف کی کیفیت کو توڑ دیا ہے، پیغام پاکستان کا ضابطہ بھی جلد ہی قانون بن جائے گا، پیغام پاکستان کے لئے ہم سب کو نکلنا ہو گا اور گلی گلی نگر نگر اس کو پھیلانا ہو گا، قانون کا نفاذ ریاست کی ذمہ داری ہے افراد کی نہیں، اگر کوئی توہین رسالت کرتا ہے تو آپ قانون کو اطلاع کریں ، کوئی فرد و طبقہ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پیغام پاکستان نے خوف کی کیفیت کو توڑ دیا ہے، اگر کوئی بے گنا ہ شخص کو قتل کرے تو اس کو سر عام لٹکانا چاہیے، پیغام پاکستان نے واضح کر دیا ہے، قانون کا نفاذ ریاست کی ذمہ داری ہے افراد کی نہیں، اگر کوئی توہین رسالت کرتا ہے تو آپ قانون کو اطلاع کریں، ہمارے دین کا نام ہی سلامتی ہے، ہمارے ہاں جن کو سورة اخلاص نہیں آتی وہ فتویٰ جاری کر دیتے ہیں، سانحہ سیالکوٹ میں جس شخص کو جلایا گیا وہ مرنے سے پہلے کلمہ پڑھنے کو تیار تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان کا ضابطہ بھی جلد ہی قانون بن جائے گا، پیغام پاکستان کے لئے ہم سب کو نکلنا ہو گا اور گلی گلی نگر نگر اس کو پھیلانا ہو گا۔

 حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ او آئی سی کی سربراہی سعودی عرب کے پاس ہے لیکن پاکستان کو 41 سال کے بعد میزبانی کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کی جنگ ہارے نہیں  بلکہ جیتے ہیں اور یہ سب کی قربانیوں کا صلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2022ءمیں او آئی سی کانفرنس میں کشمیر، فلسطین اور امت  کے مسائل پر بات ہو گی، وزیراعظم نے اسلامو فوبیا، ناموس رسالت، کشمیر اور فلسطین پر بہت سی جگہوں پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب اسلام کے سفیر ہیں، پیغام پاکستان بہت بڑی نعمت ہے، ہم کسی کو اقلیتوں کا حق نہیں مارنے دیں گے، اقلیتوں کا خیال رکھنا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق ہے۔

کانفرنس میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان، ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے بھی شرکت کی۔