اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ 2008ءسے 2013ءتک پیپلز پارٹی کی حکومت نے 13 ارب روپے کے اشتہارات جبکہ ن لیگ کی حکومت نے 2013ءسے 2018ءتک 17.7 ارب روپے کے اشتہارات اخبارات کو دیئے جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے 2018ءسے 2022ءتک 7.2 ارب روپے کے اشتہارات جاری کئے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سینیٹرز عرفان الحق صدیقی، انور لال دین، عمر فاروق اور تاج حیدر کے علاوہ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب، سیکرٹری اطلاعات ونشریات شاہیرہ شاہد، ایم ڈی پی ٹی وی، ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و نشریات، اے پی این ایس اور پی آئی ڈی کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں 29 نومبر 2021ءکو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد، ایوان بالا سے 15 نومبر 2021ءکو ریفر کئے گئے صحافیوں کے تحفظ کے بل 2021ءکے علاوہ 2008ءسے 2013، 2013ءسے 2018ءاور 2018ءسے اب تک پرنٹ، الیکٹرانک اور ایف ایم ریڈیو چینلز کے ذریعے اشتہارات کی مد میں اخراجات کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اشتہارات کی ادائیگی کے بل کی تصدیق 90 دنوں میں ہوتی ہے، 2013ءسے2018ءتک 6 ارب روپے کے اشتہارات ٹی وی چینلز کو دیئے گئے اور 2018ءسے 2022ءتک پی ٹی آئی حکومت نے 2.1 ارب روپے کے اشتہارات دیئے۔ پی آئی ڈی حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 2008ءسے 2013ءتک کے الیکٹرانک میڈیا کے اشتہارات پی آئی ڈی کے ذریعے جاری نہیں ہوتے تھے، تمام محکمے اپنے طور پر اشتہارات جاری کرتے تھے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اداروں سے الیکٹرانک میڈیا کے اشتہارات کی رپورٹ لے کر قائمہ کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے شکیل مسعود نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ مختلف چینلز کے اڑھائی ارب روپے کے واجبات ہیں جبکہ اخبارات کے واجبات ساڑھے تین ارب روپے ہیں، موجودہ حکومت کے دور میں واجب الادا رقم کا حصہ بہت کم ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے واجب الادا رقوم کی ادائیگی پر زور دیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کے حوالے سے کچھ آڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، وزارت اطلاعات اس معاملے کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرے جس پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کمیٹی کو بتایا کہ اس حوالے سے انکوائری کی جا رہی ہے، صوبوں سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں، جیسے ہی رپورٹ مرتب ہوگی، کمیٹی کو فراہم کر دی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے 2008ءسے 2018ءتک کے اشتہارات کے واجبات کا جائزہ لیا اور ادائیگیاں کیں، کچھ واجبات رہ گئے ہیں، اس پر بھی کام جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 80 فیصد واجبات 2008ءسے 2013ءکے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے اشتہارات کی بروقت ادائیگی کے حوالے سے میکنزم مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیکرٹری اطلاعات ونشریات نے اس موقع پر کہا کہ ایسا میکنزم ہونا چاہئے کہ جو اشتہار جس سال کا ہو اسی سال کے مطابق ادائیگی ہونی چاہئے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کرکٹ سٹار شعیب اختر اور پی ٹی وی سپورٹس کے اینکر نعمان نیاز کے مابین ہونے والے واقعہ کا جائزہ لیا گیا۔ ایم ڈی پی ٹی وی نے کمیٹی کو بتایا کہ دونوں پارٹیوں میں صلح ہو گئی ہے۔ ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی تھی، نعمان نیاز نے کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کیا تھا جبکہ شعیب اختر بھی کمیٹی کے سامنے آئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی آئندہ اجلاس میں شعیب اختر اور نعمان نیاز کا موقف سنے گی، وزارت اطلاعات انہیں آئندہ اجلاس میں مدعو کرے اور اس حوالے سے پی ٹی وی کی انکوائری رپورٹ بھی فراہم کی جائے۔











