اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزنہ،محصولات واقتصادی امور نے ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت ادویات اور ادویات کے طور پر رجسٹرڈ موادکے لیے انشورنس و بینک گارنٹی اور چیک کو شامل کرنے کی سفارشات پیش کی ہیں ۔ کمیٹی نے تیل اور اسٹیل کی صنعت پر بینک گارنٹی کی بھی سفارش کی۔ کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے ضمانتوں کے اجراء کے حوالے سے زیر التوا مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کر لیں جبکہ ایف بی آر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پندرہ دن میں رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سبسڈی کی فوری فراہمی اور گارنٹی کی واپسی کے حوالہ سے آئی ایم ایف کی پابندیوں کویقینی بنانے کے عزم کااعادہ کیا۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا ۔سینیٹر فاروق حامد نائیک نے کہاکہ گھریلو قسم کی سلائی مشینوں پر عائد ٹیکس معاشرے کے اس طبقے کے ساتھ ناانصافی کی ایک واضح مثال ہے جو برانڈڈ لباس اور بوتیک وارڈروبز کا متحمل نہیں ہوسکتا۔، چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کوبتایا کہ سلائی مشین کی درآمد کا صنعتکار غلط استعمال کر رہا ہے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر ضمنی مالیاتی بل میں لفظ ”گھریلو قسم” سے ”صنعتی قسم” میں تبدیلی کی سفارش کی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سیاحوں کی جانب سے ذاتی پہننے والے ملبوسات اور جائز بیگیج پر کسٹم ڈیوٹی کی مجوزہ ترمیم کو مسترد کر دیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے اس کی سفارش کو تسلیم کیا اور اس تجویز پر دوبارہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ کمیٹی نے سولر پینل پر ٹیکس کو بھی خارج کردیا اورکہاکہ یہ ملک کی ترقی کے لیے جدید قدرتی وسائل کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہے۔ سینیٹر فیصل سبزواری نے لیپ ٹاپ/کمپیوٹرز پر ٹیکس کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیجیٹلائزڈ پاکستان کے وزیر اعظم کے وژن کے خلاف ہے۔اجلاس میں پاکستان جیمز جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد فیاض قریشی کی عوامی پٹیشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوا دی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر نے سونے چاندی کی غیر کام شدہ حالت اور زیورات کی اشیاء کی درآمد اور فراہمی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو عوامی سماعت کے لیے مدعو کیا ۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ ملک میں سمگل شدہ سونے کے کلچر پر غور کرنے کے لیے سینیٹ کی کمیٹی برائے تجارت، فنانس کمیٹی، ایف بی آر اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے۔چیئرمین ایف بی آر نے یقین دلایا کہ ایف بی آر زرعی شعبوں میں عائد ٹیکس پر کام کر رہا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ انہوں نے اس موضوع پر وزیر خزانہ سے بات کی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اگلے پانچ ماہ میں سیلز ٹیکس میں تضادات کو ختم کر دیا جائے گا۔ کمیٹی نے ماچس کی صنعت کو مکمل دستاویزی شکل دینے کی تجویز پر متفقہ طور پر اتفاق کیا، کمیٹی نے ماچس سٹککے مواد پر فکسڈ ٹیکس 90 روپے سے بڑھا کر 110 روپے فی کلو کرنے کی سفارشات پیش کیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں خام مال سے زیادہ مشینری درآمد کی جارہی ہے۔ کمیٹی نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی درآمدی مشینری پر سیلز ٹیکس لگانے کی منظوری دی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سابق فاٹا میں سب سے بڑا مسئلہ پوسٹ ڈیٹا چیک کا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس وقت فاٹا میں 50 ارب روپے ٹیکس ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق فاٹا کی صنعتوں نے جعلی چیک دیے۔ کمیٹی نے ٹیکس کی مکمل ادائیگی تک سابقہ فاٹا کی درآمدات روکنے کی حمایت کی۔ اجلاس میں میٹرو شوز کے جہانزیب ندیم کی عوامی درخواست بھی پیش کی گئی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر حکام کی جانب سے 500 ملین روپے جمع کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، ان کی کمپنی کو غیر قانونی طور پر ہراساں کئے جانے کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کی کمپنی کا کل سرمایہ 700 ملین روپے ہے۔کمیٹی نے معاملہ ایف بی آر کے ممبر آپریشنز کو ریفر کردیا۔











