موٹاپے کی بڑی وجہ میٹھے مشروبات کاکثرت سے استعمال ہے؛ جنرل سیکریٹری پناہ ثناء اللہ گھمن

53

راولپنڈی،28جنوری  (اے پی پی):پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکریٹری وڈائریکٹرآپریشن ثناء اللہ گھمن نے کہاہے کہ دنیابھر کی طرح پاکستان کوبھی این سی ڈیز میں شامل دل،کینسر،موٹاپا،ذیابیطس جیسے مہلک امراض کاسامناہے،جن پر قابوپاناضروری ہے،اس کے لئے بروقت اقدامات اٹھاناہونگے ، موٹاپے کی بڑی وجہ میٹھے مشروبات کاکثرت سے استعمال ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پناہ کے زیر انتظام “میٹھے مشروبات کے نقصانا ت پرماہرین صحت کی رائے “کے موضوع پرایک اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک گروپ  کیجانب سے اکتوبر2020میں “بین الاقوامی ثبوت اور تجربات کی روشنی میں ‘‘میٹھے مشروبات پر ٹیکس چینی پر ٹیکس – میٹھے مشروبات: بین الاقوامی شواہد اور تجربات’’کے موضوع پرایک رپورٹ شائع ہوئی،جس میں بتایاگیاکہ میٹھے مشروبات ہماری غذامیں اضافی چینی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں،چینی اوررمیٹھے مشروبات کاکثرت سے استعمال دل،موٹاپااورذیابیطس سمیت صحت پرمنفی اثرات مرتب کرتے ہیں،جن پرقابوپانانہایت ضروری ہے، دنیا کے 50سے زائد ممالک میں میٹھے مشروبات پر ٹیکس لوگوکیاگیا،حکومت کو میٹھے مشروبات کے مضر اثرات سے اپنی نوجوان نسل اوربچوں کوبچاناہوگا، ٹیکس میں اضافہ اس کاموثر حل ہے۔

اس موقع پرکنسلٹنٹ فوڈپالیسی پروگرام منورحسین اورنیشنل کنسلٹنٹ منسٹری آف ہیلتھ خواجہ مسعودنے این سی ڈیز میں شامل مہلک امراض اورمیٹھے مشروبات کے مضراثرات پرشرکاءکوبریفنگ دی۔کنسلٹنٹ فوڈپالیسی پروگرام منورحسین نے کہاکہ بڑوں کی طرح بچے بھی موٹاپاکاشکارہورہے ہیں،پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی ( پی ای ایس ) کے مطابق ملک کی دو تہائی آبادی موٹاپایا زیادہ وزن کا شکار ہیں،ملک میں 10 ملین بچے موٹاپا کا شکارہیں،جس کی ایک بڑی وجہ میٹھے مشروبات کااستعمال ہے،متعلقہ حکام کوچاہیے کہ وہ بچوں کی صحت پر توجہ مرکوز کریں،ان کے نصاب میں صحت مند طرز زندگی کے طریقوں کو شامل کریں، اسکولوں میں جسمانی سرگرمیوں کو لازمی قراردیاجائے۔

سیشن  میں   چیئرپرسن نیشن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن تحسین فواد،  چیف نیوٹریشن ڈویثرن ڈاکٹرتنویر ابراہیم،نمائندہ منسٹری آف ہیلتھ ڈاکٹرخالد، کوارڈینیٹرخواتین ونگ اسلام آباد تحریک انصاف روحی ہاشمی،سول سوسائٹی،ماہرین صحت اورصحافیوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔