پشاور۔11 جنوری{اے پی پی}: صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے دور افتادہ علاقوں کے لئے سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں، صحت سہولیات کی بہتری میں قبائلی اضلاع کو مقدم رکھا گیا ہے، اس اقدام سے ہسپتالوں کی او پی ڈی اور داخلوں میں میں پہلے کی نسبت دو سو فیصد بہتری آئی ہے-
ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بارے میں منگل کے روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مطلب ہرگز نجکاری نہیں بلکہ سرکاری ہسپتالوں کے انتظام و انصرام اور عوام تک ان کے گھر کی دہلیز پر بہترین صحت سہولیات کی فراہمی کیلئے مستعد نجی اداروں سے کام لینا ہے جسکی منظوری صوبائی کابینہ دے چکی ہے۔ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بارے میں سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ پریس کانفرنس خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ فاروق جمیل، ایم ڈی ہیلتھ فاونڈیشن ڈاکٹر شاہین آفریدی اور چئیرمین ہیلتھ فاونڈیشن بھی موجود تھے۔ میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ دور افتادہ علاقوں میں واقع ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کیلئے اقدامات اُٹھاررہے ہیں۔ دور افتاد علاقوں کے کیٹگری ڈی ہسپتالوں میں مریضوں کا داخلہ اور او پی ڈی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے کے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔صوبے کے دس ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں لانا اسی کی ایک کڑی ہے اور اس مقصد کیلئے ہیلتھ فاونڈیشن کی خدمات نمایاں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس اقدام سے پہلے سے کم بجٹ میں ہسپتال نجی شعبے کے ذریعے بہترین خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس اقدام سے صوبے کے پسماندہ علاقوں میں پندرہ سو بستروں پر مشتمل صحت سہولیات مہیا ہونگی۔ اس اقدام سے سپیشلسٹ ڈاکٹر دور افتاد علاقوں میں عوام کیلئے ہسپتالوں میں دستیاب ہونگے۔ ان تمام ہسپتالوں میں عوام کو بارہ مختلف سپیشلسٹ دستیاب ہونگے۔ تیمور جھگڑا نے بتایا کہ ہمارے صوبے میں ایک ہزار سے زائد مراکز صحت ہیں، جن میں 20 ہزار بستروں کی گنجائش ہے۔ ایم ٹی آئیز بہتری اور ڈاکٹرز کی کمی پوری کرنے کے بعد مراکز صحت کی استعداد کار بڑھانے پر فوکس کیا گیا ہے۔
پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ سے ہسپتالوں کی او پی ڈی اور داخلوں میں پہلے کی نسبت دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کوشش کرینگے کہ آئیندہ سال تک ان ہسپتالوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ کریں۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے بتایا کہ اومی کرون کی شرح صوبے میں فی الحال کم ہے۔ پانچویں لہر سے نمٹنے کیلئے ہم بالکل تیار ہیں، 60 فیصد آبادی کو کورونا سے بچاو کے ویکسین لگائے جاچکے ہیں۔ ویکسینیشن کی ترویج میں میڈیا کی حمایت درکار ہے۔ ہمارے ہسپتال ضرورت پڑنے پر 24 گھنٹوں کے اندر اندر سینکڑوں بستروں پر مشتمل وارڈز تیارکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔











