کورونا  وائرس کی وبا کے باوجود گزشتہ 14سا ل میں پہلی بار صنعتی ترقی کی شرح نمو 15.27فیصد تک پہنچ گئی ہے،   اپوزیشن کا بیانیہ بری طرح ناکام و فلاپ ہو گیا ، اسد عمر

15

فیصل آباد۔20جنوری  (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی،اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا کہ طویل عرصہ سے اپوزیشن نے ایک ہی بیانیہ پر زور دے رکھا ہے جس میں بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نااہل ہے جس نے معیشت کو بری طرح تباہ کر دیا ہے اور یہ حکومت آج جا رہی ہے یا کل جا رہی ہے لیکن انہیں اپوزیشن پر ترس آرہا ہے کیونکہ اپوزیشن کا مذکورہ بیانیہ پاش پاش اور بری طرح پٹ کر زمیں بوس ہو گیا ہے جس کا اندازہ برطانیہ کے عالمی جریدے اکانومسٹ میگزین کی اس حالیہ رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں اس نے واضح طور پر مختلف اوقات میں کئے گئے تین سروے کے حوالے سے اپنے نار میلسی انڈکس میں بتایاکہ پاکستان تینوں بار نہ صرف دنیا کے ٹاپ تھری ممالک کی فہرست میں شامل بلکہ گزشتہ سال اس حوالے سے پہلے نمبر پر رہا کہ کورونا  وائرس کی وبا کے باوجود پاکستان کی گزشتہ 14سالہ تاریخ میں پہلی بار صنعتی ترقی کی شرح نمو 15.27فیصد تک پہنچ گئی ہے جو قبل ازیں 9.29 فیصد تھی یہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں جہاں کورونا نے معیشتو ں کو بربادی کے دہانے پر پہنچایا وہیں اس کے برعکس پاکستان میں کاروں،موٹر سائیکلوں،سٹیل،زراعت، سیمنٹ،زرعی مشینری آئی ٹی و دیگر سیکٹرز میں گروتھ میں 12.27فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ شرح نمو بھی 1.43فیصد بڑھی۔وہ جمعرات کی سہ پہر فیصل آباد آمد کے موقع پر سرکٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و اقتصادی امور کے چیئر مین فیض اللہ کموکا ایم این اے،خرم شہزاد شیخ ایم این اے اور دیگر ممبران قومی وصوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔اسد عمر نے کہاکہ پچھلے سال معیشت کی شرح نمو مجموعی طور پر 5.37فیصد رہی جو گزشتہ 14سال میں ایک ریکارڈ ہے حالانکہ شرح نمو کا تخمینہ 5فیصد تک لگایا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف کورونا سے دنیا کی معیشتیں متاثر ہوئیں مگر دوسری جانب پاکستان کی معیشت حکومت کی کو وڈ سے مقابلہ کیلئے تشکیل دی گئی حکمت عملی سے انتہائی بہترین رہی جس سے نہ صرف ہمارا کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا بلکہ ہماری شرح نمو بھی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کے طور پر سامنے آئی جو عوام کیلئے بڑی خوشخبری ہے۔انہو ں نے کہاکہ دنیا کے ممالک نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے جہاں کورونا کا مثالی طریقے سے مقابلہ اور اس کے نقصانات کو کم سے کم کیا وہیں ہر شعبہ میں ترقی بھی جاری رکھی یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال گندم کی پیداوار کا جو تخمینہ 27.3ملین ٹن لگایا گیا تھا اس کے برعکس 27.5ملین ٹن پیداوار حاصل ہو ئی۔دوسری جانب جو شرح نمو پہلے 9.29فیصد تھی وہ بھی صنعتی ترقی سے بڑھ کر 15.27فیصد ریکارڈ کی گئی۔انہو ں نے کہاکہ آلو کی پیداوار کا تخمینہ 4.7ملین ٹن تھا مگر پیداوار 5.9 ملین ٹن ملی جبکہ پیاز کے 2.3ملین ٹن کے ہدف کے برعکس 2.7ملین ٹن اور ٹماٹر کی پیداوار بھی 0.67ملین ٹن اضافے کے ساتھ 4.7ملین ٹن حاصل ہوئی۔انہو ں نے کہاکہ قدرتی گیس کی پیداوار کا تخمینہ 1.2 کھرب مکعب فٹ تھا جو بڑھ کر 1.7 کھرب مکعب فٹ رہالہٰذااس کی پروڈکشن میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا وہیں خام تیل کی پیداوار 26.2ملین بیرل سے تجاوز کر کے 27.6ملین بیرل اور کوئلے کی پیداوار 8.52ملین ٹن سے بڑھ کر 8.59ملین ٹن ہو گئی۔اسد عمر نے بتایا کہ ایک طرف فصلات کی پیداوار میں اضافہ ہوا جس کے ساتھ ساتھ زرعی و غذائی اجناس کے علاوہ خام مال کی پروڈکشن میں بھی بہتری آئی۔