ہندوستان نے  2019 سے کشمیر میں  کالے قوانین نافذ کیے    ہیں  جو کہ اقوام متحدہ  کی قرار داد کی خلاف ورزی ہے؛ سفیر ڈاکٹر محمد فیصل

31

برلن ، 05 جنوری ( اےپی پی): جرمنی میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ ہندوستان نے 5 اگست 2019 سے کشمیر میں ایک کالی رات طاری کی ہوئی ہے۔ وہاں   کالے قوانین نافذ کیے  گئے ہیں  جو کہ اقوام متحدہ  کی قرار داد کی خلاف ورزی ہے۔

 یوم حق خود ارادیت کشمیر کے  موقع پر ا پنے  پیغام میں ڈاکٹر محمد فیصل نے   کہا   کہ  آج  اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل  کی قرار داد کے 73 سال مکمل  ہو گئے ہیں ،  73 سال قبل آج  ہی کے دن   اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایک قرار داد پاس کی تھی جس میں انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت دیا تھا، اس حق خودارادیت کا طریقہ کار بھی طے کیا تھا  کہ جس کے  تحت  اقوام متحدہ   استصواب رائے  کرائے گا  اور  کشمیر کی عوام کو یہ حق  دیا  جائے گا  کہ وہ خود فیصلہ کریں  کہ وہ   ہندوستا ن کےساتھ جانا چاہتے ہیں  یا پاکستان کے ساتھ اور جو بھی کشمیریوں کی رائے ہو گی اس کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے اس وعدے سے مکر گیا ہے  جبکہ  پاکستان آج بھی اپنے وعدے پر  قائم ہے  اور   اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ ہندوستان نے 5 اگست 2019 سے کشمیر میں ایک کالی رات طاری کی ہوئی ہے۔ وہاں   کالے قوانین نافذ کیے  گئے ہیں  جو کہ اقوام متحدہ  کی قرار داد کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے کشمیر میں  انٹر نیٹ اور فون سروس معطل کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہوئی ہے۔ ان کی افواج کو ہر طرح کا ظلم کرنے کی آزادی ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بند کمرے میں اس موضوع پر تین اجلاس کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک  کشمیریوں  کو   اقوام متحدہ  کی قرارداد کے تحت حق خود ارادیت نہیں مل جاتا پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ  کھڑا ہے ۔

سورس:و ی این ایس، اسلام آباد