اوکاڑہ،27فروری (اے پی پی): یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے سوشل سائنسز ریسرچ سنٹر میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق نوجوانوں کے متشدد رویوں کو کنٹرول کرنے اور ان میں مثبت سوچ پیدا کرنے کےلیے خاندان اور حلقہ ارباب کا کردار نہایت اہم ہے۔ تحقیق کے یہ نتائج یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عرفان لطیف نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتائے۔ ان کا مزید کہنا تھا فیملی کی طرف سے ملنے والی اخلاقی اور معالی معاونت نوجوانوں میں متشدد رویوں کو پنپنے سے روکتی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کا کردار بھی کلیدی حثیت کا حامل ہے۔
شعبہ عمرانیات کے دوسرے اساتذہ ڈاکٹر شہزاد فرید، ڈاکٹر سمیرا اور ذویا یعقوب نے بھی اس تحقیق کے دوران حاصل ہونے تجربات سیمینار کے شرکاء کے ساتھ شئیر کیے۔ اس سیمینار میں دیگر شعبہ جات کے سینئر اساتذہ ڈاکٹر خالد سلیم، ڈاکٹر طاہر خان فاروقی اور عثمان شمیم نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر عرفان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس تحقیق کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے نوجوانوں میں متشدد رویے پیدا کرنے والے دیگر معاشرتی ، معاشی، سیاسی اور ثقافتی عوامل کو بھی اسٹڈی کریں گے۔











