ملتان۔15فروری (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کے عوام کوشناخت دیکران کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے ۔پی پی ن لیگ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں ؟دونوں جماعتیں جنوبی پنجاب صوبے پر مگر مچھ کے آنسو نہ بہائیں اگر وہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے سنجیدہ ہیں تو آئیں اور آئینی ترمیم پر ہمارا ساتھ دیں۔ دو دفعہ خط لکھ کر جنوبی پنجاب صوبے پر مدد مانگ چکا ہوں لیکن دونوں جماعتوں کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز این اے 156 کی یونین کونسل 65 میں سابق وائس چیئرمین میاں سجاد انصاری کی اپنے ساتھیوں سمیت ن لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ وقت آنے پردونوں جماعتوں کی خاموشی کی وجہ بتاؤں گا۔ ملکی سیاست اہم موڑ میں داخل ہو چکی ہے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 5‘5 بار باریاں لینے والے بہتر ہیں یا پہلی دفعہ اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف بہتر ہے۔ پی پی ن لیگ دونوں جماعتوں نے کم وبیش 40 سال تک اقتدار کے مزے لوٹے ۔ تحریک انصاف کو پہلا موقع ملا ہے او ر ا بھی چار سال مکمل نہیں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ حکومت جن حالات میں ملی قوم کے سامنے ہے۔ہمیں مشکل حالات میں ملک ملا اس لیے مشکل فیصلے کرنا پڑرہے ہیں۔ قومی خزانہ خالی ‘ کمزور ملکی معیشت‘ 20ارب ڈالر کا قرضہ ورثہ میں ملا۔ قوم جوٹیکس ادا کررہی ہے۔ وہ ماضی کی حکومتوں کے چھوڑے گئے قرض کا سود ادا کرنے پرخرچ ہو رہا ہے۔ انشاءاللہ ملک کو معاشی بحران کے بھنور سے نکالیں گے اور معیشت کو مضبوط کریں گے۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ مہنگائی سابقہ حکمرانوں کا دیا ہوا تحفہ ہے ۔ مہنگائی کی بنیاد بننے والے لوگ مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔سابقہ ادوار میں کئے گئے بجلی کے معاہدوں کی بنیاد پر عوام بجلی کے اضافی بل بھرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک میں اپنے اپنے مفادات کی خاطر سیاسی جماعتوں کے لیڈران سر جوڑے بیٹھے ہیں۔جو لوگ ایک دوسرے کو گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے آج ایک دوسرے سے منسلک ہوگئے ہیں۔جو سیاسی حریف ایک دوسرے کوگھر بھیجنے کی باتیں کرتے تھے وہ ایک دوسرے کے گھر چلے گئے۔ آج ن لیگ کا وہ بیانیہ کہاں ہے جو پہلے استعمال کرتے تھے۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کے پاس ملکی ترقی کا ایجنڈا ہے جس پر کام جاری ہے۔ اپوزیشن کے پاس ملکی ترقی کا کوئی ایجنڈا نہیں۔ہم آئندہ دس سالوں میں دس نئے ڈیم بناکر جائیں گے تاکہ زراعت سے ملکی معیشت مضبوط ہوسکے۔ہم ترکمانستان اور ایران سے سستے گیس پائپ لائن کے منصوبے پر بات چیت کررہے ہیں جس سے ملک میں گیس کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت خدمت خلق پر یقین رکھتی ہے۔ایک نئی سوچ کو متعارف کروانے اور ایک نئے نظام کی بنیاد رکھنے کیلئے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو صحت کارڈ دے رہے ہیں جس سے شہری 10 لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکتے ہیں۔ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ عوام کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔وزیرخارجہ نے کہاکہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ن لیگ کو مقبول سیاسی جماعت کہنے والے بتائیں کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات میں ن لیگ کہاں کھڑی ہے۔ وہاں پر جے یو آئی اورپی ٹی آئی سامنے آئے۔ہمیں بتایا جائے مخالف جماعتیں خیبرپختونخوا میں کتنی تحصیلیں جیت چکی۔ خیبر پختونخوا میں عوامی خدمت کے صلے میں دوبارہ خدمت کا موقع ملا۔ پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صف بندی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ کارکن ایک خدمت اور مشن کیلئے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں یکجا ہوں ۔ علاقے کے جو سیاسی رہنما تحریک انصاف میں شامل ہوئے اس سے تحریک انصاف مزید مضبوط ہوگی۔ اس موقع پر وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یونین کونسل 65 کیلئے 1 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں اور سٹریٹ لائٹس کی فوری تنصیب کااعلان کیا۔قبل ازیں الجیلان ٹاؤن سورج کنڈ روڈ ملتان میں واٹر سپلائی ‘ سیوریج اور کارپٹ روڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی پی ن لیگ اپنے نظریہ سے ہٹ چکی ہیں امتحان آنے والا ہے ۔ آج کل دائیں بائیں کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ دائیں بائیں ہونے والوں کو شکست ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف خلوص نیت سے ملکی ترقی کیلئے کوشاں ہے ۔ ماضی میں اپوزیشن میں رہنے کی وجہ سے میرے حلقے کو پسماندہ رکھا گیا۔ فنڈز نہ دیئے گئے۔ اقتدار میں آکر تمام تر وسائل حلقے کی ترقی پر خرچ کررہا ہوں۔ این اے 156 میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے حلقے کی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔











