اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی سربراہی میں ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن وامان کی صورتحال، سیکورٹی سسٹم اور غیر قانونی تجاوزات کاجائزہ لینے کیلئے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز سمیت سیف سٹی ہیڈکوارٹر زکا دورہ کیا اور ڈی سی آفس اسلام آباد سے پراپرٹی ویری فکیشن سینٹرکے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس جمعرات کو یہاں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ چیئرمین نے دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سی ڈی اے سے سیف سٹی کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی گئی۔قائمہ کمیٹی نے کچھ تحفظات کااظہار کیاتھاان کاجائزہ لینے کیلئے قائمہ کمیٹی سیف سٹی ہیڈکوراٹرز اور اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کادورہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی تجاوزات کی بھر مار پر تفتیش کا اظہار کرتے ہوئے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اس لئے آج ان تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی ان علاقوں کا دورہ کرکے جائزہ لے گی کہ کہاں کہاں قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اس حوالے سے رپورٹ تیار کی جائے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے سیف سٹی کے کیمروں کے خراب ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ہدایت کی کہ وفاقی دارالحکومت میں امن وامان کے حوالے سے سیف سٹی منصوبے کو بہتر اور موثر بنایا جائے تاکہ وفاقی دارالحکومت کو ماڈل سٹی میں تبدیل کیا جا سکے۔قائمہ کمیٹی اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے مسائل کا بھی جائزہ لے گی۔ اراکین کمیٹی نے اسلام آباد کے تجارتی مرکز بلیو ایریا روڈ پر ٹریفک کے بے تحاشا رش اور غیر قانونی پارکنگ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ اسلام آباد بلیو ایریا میں ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ کی بڑی وجہ بے تحاشا شورومز کی بھر مار ہے۔ شو رومزنے پوری پوری سٹرکیں بلاک کر رکھی ہیں اور اسی طرح ہر سیکٹر کے مرکز میں بھی غیر قانونی تجاوزات میں اضافہ اہم وجہ ہے۔ سیف سٹی ہیڈ کوارٹرز کے ڈی جی نے قائمہ کمیٹی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی موثر مانیٹرنگ، امن وامان اور سیکورٹی کے حوالے سے کیے جانے والے مانیٹرنگ سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1700 کیمروں کے ذریعے اسلام آباد کے 35 فیصد علاقے کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے آس پاس کے علاقوں میں مانیٹرنگ سسٹم نہیں ہے وہاں مناسب مانیٹرنگ کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ 200 مزیدکیمرے خرید لئے گئے ہیں۔ نیٹ ورک کو بڑھا رہے ہیں اس کیلئے پرائیوٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور دیگر علاقوں میں پرائیوٹ کمپنیوں کے کیمروں کو منسلک کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے 6 سمارٹ گاڑیاں تھیں مزید 13 خریدی جا رہی ہیں جو چلتے پھرتے مانیٹرنگ اسٹیشن ہیں جس سے درالحکومت کامزید 13 فیصد علاقہ مانیٹرنگ سسٹم کا حصہ بن جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیف سٹی فیزII کے تحت 1900 سیکورٹی کیمرے مزید خریدے جائیں گے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جن علاقوں میں جرائم ہوتے ہیں ان کے نقشے بنائے جا رہے ہیں روزانہ کی بنیاد پر 30 سے40 رپوٹیں بھی تیار کی جاتی ہیں۔سیف سٹی ہیڈکوارٹر میں 4 مختلف ہیلپ لائنوں کے اہلکار بھی فرائض سرانجام دے رہے ہیں جن میں ریسکیو1122 اور15 وغیر ہ شامل ہیں۔ جس پر چیئرمین واراکین کمیٹی نے کہا کہ اس حوالے سے تشہیر کرنے کی ضرورت ہے لوگوں کو ہیلپ لائنز کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ عام طور پر لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتاہے کہ سیف سٹی کے 50 فیصد کیمرے خراب ہو چکے ہیں جس پر ڈی جی سیف سٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ جو بھی کیمرہ خراب ہوتا ہے 72 گھنٹے میں ٹھیک کرلیا جاتا ہے۔قائمہ کمیٹی کوبتایا گیا کہ جو وسائل ہیں ان کا بھر پور اور موثر انداز میں استعمال کیا جارہا ہے۔نئی ٹیم کے آنے سے نمایاں بہتری نظر آرہی ہے۔ تمام سسٹم ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ 15 منٹ میں ہونے والا کام 30 سکینڈ میں ہوجاتا ہے۔2021 میں وفاقی دارالحکومت میں 2892 ایف آئی آر رجسٹرڈ کی گئیں جن میں سے زیر تفتیش 2639 ہیں۔455 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔2016 سے اب تک15066 ایف آئی آر رجسٹرڈ کی گئی ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں کل 22 پولیس اسٹیشن ہیں جن کو سیف سٹی ہیڈکوارٹر سے کیمروں کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے۔ ہر ایس ایچ او تین سے پانچ بجے تک عوامی شکایات سننے کیلئے موجود رہتا ہے عملے کو مناسب تربیت فراہم کی گئی ہے۔ کام کومختلف سیکشنز میں تقسیم کر کے بہتری لائی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں قائم تجارتی مراکز جناح سپر مارکیٹ، سپر مارکیٹ، کوہسار مارکیٹ، کا دورہ کرتے ہوئے غیر قانونی تجاوزات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی ڈی اے سے ایس او پیز طلب کر لئے اور ہدایت دی کہ فٹ پاتھ یادیگر خالی جگہیں جو عوام کی سہولیات اور آمد ورفت کیلئے تھیں ان پر غیر قانونی تجاوزات کوہٹایا جائے اور عوام کیلئے آسانی پیدا کی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے ڈی سی آفس اسلام آباد کا دورہ کرتے ہوئے پراپرٹی ویری فیکیشن (جائیداد کی تصدیق) کیلئے بنائے گئے سینیٹر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 21 فروری سے سی ڈی اے اس سہولت کو آن لائن کر دے گا جس سے لوگ گھر بیٹھے اپنی پراپرٹی کی تصدیق کر سکیں گے۔ اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز محمد طلحہ محمود، سیف اللہ ابڑو، فیصل سلیم رحمان، فوزیہ ارشد، عبدالقادر کے علاوہ سی ڈی اے حکام نے شرکت کی۔











