ترکی حکومت کے صدارتی مذہبی امور کے صدر ڈاکٹر علی ارباس کی سربراہی میں 18 رکنی وفد کا بادشاہی مسجد کا دورہ

18

لاہور،18 فروری ( اے پی پی ):  ترکی حکومت کے صدارتی مذہبی امور کے صدر ڈاکٹر علی ارباس کی سربراہی میں 18 رکنی وفد نے لاہور میں عالمگیری بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔وفد کووزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ اور وفاقی وزیر مذہبی امور  وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے   خوش آمدید کہا۔ تمام مہمانان کو مزار شاعر مشرق علامہ اقبال پرلے جایا گیا۔

ڈاکٹر علی ارباس کی سربراہی میں 18 رکنی وفد نے شاعر مشرق کے مزار پر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ خطیب بادشاہی مسجد ڈاکٹر عبدالخبیر آزاد نے دعا کرائی۔ اس موقع پر سیکر ٹری اوقاف جواد اکرم،ایڈیشنل سیکر ٹری اوقاف،ڈائریکٹر جنرل اووقاف سید طاہر رضا بخاری،ایڈمنسٹریٹر داتا دربار خالد محمود سندھو، زونل ایڈمنسٹریٹر بابر کوندل،خطیب بادشاہی مسجد ڈاکٹر عبدالخبیر آزاد و دیگر افسران بھی موجود تھے۔

مہمان گرامی ڈاکٹر علی ارباس نے رکھی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کئے۔صدرعزت مآب ڈاکٹر علی ارباس نے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شاعری اور پیغام پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری میں مسلمانوں کو اللہ کی وحدانیت اور امت محمدی کے اتحاد کا درس دیا۔  ان کی شاعری نے مسلمانوں کے دلوں میں جذبہ ایمانی کو جگایا۔وہ حقیقت شناس تھے اور مسلمانوں کے مستقبل کو اپنی شاعری کے ذریعے عروج عطا کیا۔ دورے سے دونوں ممالک کے روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ ترکی اور پاکستانی عوام کے دل ایک دوسرے کے لیے ڈھرکتے ہیں۔ وفد کوعالمگیری بادشاہی مسجد میں رکھے تبرکات مقدسہ گیلری لے جایا گیا۔وفد نے تبرکات مقدسہ گیلری میں رکھے تبرکات کو دیکھ کر جذبہ ایمان کو بلند پایا۔

ڈاکٹر علی ارباس نے عالمگیری مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز کی ادائیگی کرائی۔ انہوں  نے اپنے خطبہ میں کہا کہ ان کا اور ان کے وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین سنگ میل ثابت ہو گا۔آج عالم اسلام کو اتحاد و وحدت کی اشد ضرورت ہے۔دنیا بھر میں طیب اردگان اور عمران خان عالم اسلامی کا حق ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسوقت عالم اسلام کوتشدد اور نتہا پسندانہ رویوں سے محفوظ رکھنا ہو گا۔

 وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ اور وفاقی وزیر مذہبی امور  وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے تمام مہمانان کی لاہور آمد پرشکریہ ادا کیا۔

سورس:وی  این ایس، لاہور