شہباز شریف کو لندن میں کوئی ضمانت نہیں ملی اور نہ ہی کیس ختم ہوا ہے ،اگر باعزت بری ہوئے ہیں تو ثبوت سامنے لائیں ، وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کی پریس کانفرنس

22

اسلام آباد۔11فروری  (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے کہاہے کہ ملک مقصود چپڑاسی کے اکائونٹ میں چار ارب روپے کس نے ڈالے اور قطری آپ کے اے ٹی ایم کیوں تھے ، شہباز شریف کو لندن میں کوئی ضمانت نہیں ملی اور نہ ہی کیس ختم ہوا ہے ،اگر باعزت بری ہوئے ہیں تو ثبوت سامنے لائیں ، کچھ لوگ اتنے تواتر سے جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ سچ لگنے لگتا ہے ،سب سے پہلے تواتر سے جھوٹ بولنے کا کام ہٹلر نے شروع کیا تھا ،جو بھی نئے ڈاکومنٹس سامنے آتے ہیں اس کے جواب میں یہ بار بار جھوٹ بولتے ہیں ،آج مریم اورنگزیب نے کہاکہ شہباز شریف باعزت بری ہوچکے ہیں ،پھر انہو ں نے کہاکہ وہاں تحقیقات شہباز شریف کے بارے میں ہورہی تھیں ،پھر کہاکہ ہر وہ مقدمہ جو شہباز شریف پر ہے وہ جھوٹا مقدمہ ہے ،انتقامی مقدمہ ہے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز گل نے کہاکہ آج مریم اورنگزیب نے ایک مرتبہ پھر انگلیاں لہرا لہرا کر جھوٹ بولا ،انہیں پتہ نہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ انگلی لہرا کربات کریں گی تو سچ لگے گی ،محترمہ آپ دونوں ہاتھ کھڑے کرکے بولیں یا انگلی لہرا کر بات کریں ،جھوٹ صرف جھوٹ رہتا ہے وہ سچ نہیں ہوسکتا ،مریم اورنگزیب نے کہاکہ شہباز شریف کو لندن سے ضمانت مل گئی ہے ،اگر ایسا ہے تو اس ضمانت کا کوئی آرڈر دکھا دیں لیکن انہوں نے میڈیا کے سامنے جھوٹ بولا ،انہوںنے پہلے ہی صحافیوں کے ذریعے جھوٹی خبریں پھیلائیں جن کے لیے پیمرا کا آرڈر ہے کہ انہیں اپنے اپنے شوز میں اب معافی مانگنی پڑے گی کیونکہ این سی اے نہ شہباز شریف کو کوئی ضمانت دی ہے نہ عدالت نے ضمانت دی ہے نہ ہی کسی قسم کا باعزت بری کیا ہے ،یہ ساری جھوٹی خبر چلائی گئی تھی اور آج مریم اورنگزیب نے دوبارہ ببانگ دہل جھوٹ بولا ہے ۔شہباز شریف کو لندن سے کوئی ضمانت نہیں ملی ،جو تحقیقات ہورہی تھیں وہ سلمان شہباز کے اکاﺅنٹس کی بابت ہورہی تھی ،ٹوٹل چھ لاکھ ستتر ہزار برطانوی پونڈز کی تحقیقات تھیں ۔اس کے دو بنیادی سورس تھے ایک جوادھار کی رقم سے لیا گیا اپارٹمنٹ بیچا جو کہ تقریباتین لاکھ اٹھانوے ہزار پونڈز کا تھا وہ پیسہ شہباز شریف نے واپس سلمان شہباز کو دیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ذوالفقار احمد سے جیب خرچ کی مد میں بھی رقوم لیتے رہے ۔سلمان شہباز کے اکاﺅنٹ میں یہ دو ٹرانزیکشنز کے بارے میں تحقیقات تھیں جن پر فنڈز فریز کیے گئے تھے ان کو بحال کیا گیا ،یہ تحقیقات آج بھی جاری ہیں اور یہ ختم نہیں ہوئیں اور اس میں شہباز شریف کو نہ کوئی ضمانت ملی اور نہ ہی ان کا نام آیا اس میں کہیں پر ۔اگر انہیں لگتا ہے کہ کوئی ضمانت ملی ہے تو جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے وہ دستاویز ٹویٹ کریں ،سارے میڈیا کے سامنے آجائے گا ۔اس کے علاوہ اگر اس کیس کو بند کردیاگیاہے اور آپ دودھ کے دھل گئے ہیں وہاں سے تو پھر بھی وہ آرڈر آپ لوگ ٹویٹ کردیں تاکہ ہر چیز عوام کے سامنے آجائے ۔اس کے ساتھ ساتھ ان سوالوں کا بھی جواب دے دیں کہ ملک مقصود چپڑاسی کے اکاﺅنٹ سے جو چار ارب نکلے ،پھر مسرور انور پھر عبدالجبار ۔یہ کوئی پندرہ سولہ لوگ ہیں جن کے اکاﺅنٹس سے اربوں روپیہ نکلا ہے جن میں سے کوئی چپڑاسی ہے کوئی کلرک ہے ۔ان لوگوں کے اکاﺅنٹس میں پہلے پیسہ ڈلوایا اور پھر جعلی طریقے سے نکال کر آپ لوگوں نے اپنے گھر خریدے ،مکان خریدے ،کاریں خریدیں ۔آپ کو ان کا بھی جواب دینا ہوگا اور آپ کو لندن میں بھی لوٹی ہوئی دولت کا جواب دینا ہے۔آپ لوگوں سے سادہ سا سوال ہے کہ ملک مقصود چپڑاسی کے اکاﺅنٹ میں چار ارب روپے کس نے ڈالے تھے ،جیسے آپ نے سپریم کورٹ میں لکھ کردیاہوا ہے کہ قطری آپ کے اے ٹی ایم ہیں ۔نہ آپ نے ان کا کوئی ثبوت دیا اور اب ملک مقصود چپڑاسی کا ثبوت دے رہے ہیں ،مریم اورنگزیب سوتے میں بھی جھوٹ بولتی ہیں کیونکہ آپ کو جھوٹ کے سوا کچھ آتا ہی نہیں ۔آپ نے قومی میڈیا پر بیٹھ کر کہاکہ شہباز شریف کو بیل مل گئی ہے تو اب وہ آرڈر بھی دکھائیں ۔عدالت نے جب ٹرسٹ ڈیڈ پر سوال کیا تو آپ نے کیلبری فونٹ دے کر اپنی جگ ہنسائی کرائی فواد چوہدری صاحب نے یہ تقاضا کردیاہے کہ ہم اس کے ساتھ باضابطہ جائیں گے اور یہ تقاضا بھی کریں گے کہ جو آپ پر فرد جرم عائد ہونے جارہی ہے آپ نے بہانے کرکے اس کیس کو بہت زیادہ لٹکا لیا ہے ،ہم چاہیں گے کہ مقددمے کی یہ سماعت لائیو براڈ کاسٹ ہو تاکہ میڈیا کو پتہ چلے کہ آپ اندر کس طرح پاﺅں پڑتے ہیں اور باہر آ کر کس طرح اور کون کون سی باتیں کرتے ہیں ۔میری آج کی پریس کانفرنس میں تین تقاضے ہیں اگر وہ پورے نہیں کرتے تو پھر میں درخواست کروں گا کوئی جھوٹوں کا ایوارڈ بننا چاہیے ،تاج بنانا چاہیے جو کہ میسنی باجی مریم اورنگزیب کے سر پر سجانا ہوگا۔ہر روز کہتے ہیں کہ حکومت کے فلاں بندے سے ہمارا رابطہ ہے ، آپ میدان میں آئیے ابھی فروری بھی آگیا اور مارچ بھی آرہاہے ،ابھی بلدیاتی الیکشن آ رہاہے آپ کو بتائیں گے کہ کس کس ضلع میں کون کس کی ٹکٹ لیتا ہے ،آپ سے چوبیس لوگ تنگ ہیں جن میں سے دو لوگوں نے پچھلی میٹنگ میں کہاکہ وہ استعفے دینے کے لیے تیار ہیں لیکن بھگوڑے نواز شریف واپس آئیں ۔