جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے مستحکم گروتھ اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے؛ وفاقی وزیر خزانہ  شوکت ترین

13

 

کراچی،19مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہاہے کہ جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے مستحکم گروتھ اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کی ترقی کے لئے حکومت مختلف اقدامات اٹھارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے روٹری انٹرنیشنل پاکستان اور سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے درمیان ہفتہ کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر خزانہ و محصولات شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں کی شرح کم ہے، اس کو بڑھانا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ قابل ٹیکس آمدنی والے ٹیکس دینے سے اب بچ نہیں سکیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ماضی میں ملک کے اندر زراعت کے شعبے کو نظر انداز کیا گیا  لیکن موجودہ حکومت نے زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ترقی دینے اور جدید بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی اور ایکسپورٹ میں اضافے کے لیے ان شعبوں پر توجہ دینا ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں زراعت کی پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوئی اور ہمیں ایمپورٹ کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی میں بڑی صلاحیت موجود ہے اور اس سے ایکسپورٹ بڑھائی جاسکتی ہے ، آئی ٹی ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے حکومت اقدامات کررہی ہے ۔

 وفاقی وزیر  نے مزید کہا کہ حکومت نے خواتین اور غریب طبقے کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لئے مختلف پروگرامز شروع کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے کامیاب جوان پروگرام ، احساس پروگرام سمیت دیگر تمام پروگرام انتہائی شفافیت کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی معاشی ترقی چاہتے ہیں جس سے صرف ایک طبقہ مستفید نہ ہو بلکہ اس کے ثمرات ملک کے تمام طبقوں کے لئے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانی نقصان کے ساتھ ملکی معیشت کو بھی بہت نقصان پہنچا۔

 اس موقع پر سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا بشیر محمد فاروقی نے کہاکہ ہم پانچ ہزار ملازمین کے ساتھ روزانہ لاکھوں لوگوں کی خدمت کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تیار کھانے کے ساتھ ہم راشن بھی تقسیم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ روٹری کے ساتھ پارٹنرشپ پر خوشی ہے ۔

ڈائریکٹر روٹری انٹرنیشنل محمد فیض قدوائی نے کہا کہ مسلم ممالک میں روٹری بہت پیچھے ہیں، ہمیں مسلم ممالک میں اس کو اپنے مقام پر پہنچانا ہے، روٹری کے پیغام کو درست طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ روٹری خدمت کا ادارہ ہے اور روٹری میں ہمیں خدمت کے نظریے سے آنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے روٹری ممبر شپ بڑھانے کے ساتھ ساتھ پارٹنرشپ کرنی ہے ، جس طرح آج ہم سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ساتھ پارٹنرشپ کررہے ہیں ۔

اس موقع پر روٹیرین محمد اقبال قریشی ، رضوان ، حنیف خان، آفتاب امام، چوہدری سیف اللہ اعجاز نے بھی خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ روٹری اور سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ دونوں اداروں کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے ، دونوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے اس مقصد کو مزید فروغ ملے گا، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ساتھ ملکر مزید پروگرامز شروع کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ روٹری میں کام کرنے سے اطمینان ملتا ہے کیونکہ کمیونٹی سروسز کے دیگر ادارے بھی ہیں لیکن روٹری جیسے بہت کم ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ روٹری پر دنیا اعتماد کرتی ہے ۔

 بعدازاں دونوں اداروں کے نمائندوں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔

سورس:وی این ایس، کراچی