چترال، 11 مارچ (اےپی پی): چترال کے مضافاتی گاؤں مولدہ میں ایک غریب شحص ادینہ محمد کا گھر جل کر خاکستر ہوگیا۔ ادینہ محمد جو اتالیق مسجد میں خادم کے خدمات بھی انجام دے رہے ہیں ان کا چھوٹا سا کباڑ کی دکان ہے اور دکان کے سامنے ریڑھی پر سبزی بیچ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح دس بجے اچانک اس کے گھر میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں اس کا گھر جو دو ہی کمروں پر مشتمل تھا مکمل جل کر خاکستر ہوگیا۔
ادینہ محمد کا گھر کا جلنے کا سن کر ان کے پڑوسی فورا وہاں پہنچ گئے اور آگ بجھانے کی کوشش کی مگر راستہ تنگ ہونے کی وجہ سے فائر بریگیڈ وہاں پہنچ نہیں سکتی تھی تاہم علاقے کے نوجوانوں نے رضا کارانہ طور پر اس کے گھر سے ملبہ باہر نکالا اور بنیادوں کی کھدائی بلا معاوضہ کرتے ہوئے اس کا مکان ایک بھر بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر اس مکان پر تیس سے چالیس لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے جو ادینہ محمد کی بس سے باہر ہے۔
اگر مخیر حضرات یا حکومتی ادارے ان کے ساتھ تعاون کریں تو وہ اس قابل ہوگا کہ سرچھپانے کی جگہ رمضان سےپہلے پہلے دوبارہ تعمیر کرسکے گا۔











