عوام کی سہولت اولین ترجیح ہے جس کے لیے دن رات کام کریں گے، رہنما مسلم لیگ ن

35

اسلام آباد۔25اپریل  (اے پی پی):مسلم لیگ( ن )کے سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ   پچھلی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے 11ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل چکی ہے ، وزیراعظم نے گیس اور بجلی کے بحران کا نوٹس لیا ہے ، ایل این جی کے تین کارگو مئی اور ایک کارگو جون کیلئے خریدیں گے۔پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ ابھی تک آپ نے بیرونی سازش کی بات سنی ہو گی ،آج میں اندرونی سازش کی بات کروں گا،2013 میں ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی،(ن) لیگ کی حکومت نے بجلی کا بحران  ختم کیا ، اب ملک میں  ایندھن کی کمی کی وجہ سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی غائب ہے،مینٹی ننس نہ ہونے کی وجہ سے 4200 میگاواٹ بجلی پیدا نہیں ہو رہی ،2 ہزار میگاواٹ کے کارخانے شیڈولڈ بندش پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرنس آئل، ڈیزل اور ایل این جی وقت پر نہیں خریدی گئیں، یہ ہے وہ اندرونی سازش جو پچھلی حکومت کے نکمے پن کی وجہ سے ہے،2018 میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی ، اس وقت پیداوری لاگت 9روپے 60پیسے تھی آج 16روپے 20پیسے ہوچکی ہے ، ایندھن کی قیمت ہمارے دور میں 4روپے تھی اب 6روپے ہوچکی ہے،گزشتہ حکومت میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 80 روپے تک گرا،روپے کی قدر گرنے سے بجلی کی مد میں 3 سو ارب کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے،2018 میں بجلی کی فی یونٹ قیمت 13 روپے سے کم تھی ،آج بجلی کی فی یونٹ قیمت 17 روپے کے قریب ہے، یہ جو اندرونی سازش ہے اس کا کون ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے،فرنس آئل کے پانچ کارگو پلان کر لئے گئے ہیں ،ایل این جی کے یہ کارگو 24 سے 27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ملے گی۔