اسلام آباد۔11اپریل (اے پی پی):محمد شہباز شریف نے ملک کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھالیا، نومنتخب وزیر اعظم کی حلف برداری کی پر وقار تقریب پیر کو یہاں ایوان صدر میں منعقد ہوئی، قائم صدر وچیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی نے محمد شہباز شریف سے وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں اعلی سول وفوجی حکام، سیاسی رہنمائوں، اراکین پارلیمنٹ اوراہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس سے قبل قومی اسمبلی نے پیر کوہی محمد شہباز شریف کا 174ووٹوں سے ملک کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے انتخاب کیا تھا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف مسلم لیگ ن کے صدر ہیں اور تین مرتبہ وزیراعظم پاکستان رہنے والے محمد نوازشریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ شہبازشریف کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی۔ عملی سیاست میں ان کا کیرئیر بہت شاندار ہے جو چار دہائیوں پر مشتمل ہے ،ان کی عوامی خدمت کا کیرئیر 1985 میں بطور صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے شروع ہوا۔ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی پیروی کرتے ہوئے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ پہلی دفعہ 1988 میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اسمبلی کی یہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی 1990 میں اسے تحلیل کردیا گیا۔1990-93کے دوران قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1993 میں پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور 1996 تک اپوزیشن لیڈر رہے۔1997 میں تیسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔یہ اسمبلی بھی 1999 میں تحلیل کردی گئی۔ پنجاب حکومت پی ایم ایل این کی مرکزی حکومت کے ساتھ ہی ختم کردی گئی۔ ان کو قید کرلیا گیا اور بعد میں جبری جلاوطن کردیا گیا۔ محمد شہباز شریف نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کےلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2008 میں چوتھی مرتبہ بلا مقابلہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 8 جون 2008 سے 26 مارچ 2013 تک دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ پنجاب خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مئی 2013 کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی پی ایم ایل این بھاری مینڈیٹ کے ساتھ پھر اقتدار میں آئی۔وہ صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں (پی پی۔159، پی پی۔161، پی پی۔247)اور (این اے۔129)کی ایک قومی نشست پر کامیاب قرارپائے۔ تاہم انہوں نے پی پی۔159 کی نشست برقرار رکھی نتیجتاً وہ تیسری مرتبہ ریکارڈ حیثیت میں وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ شہباز شریف 2018 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے عمران خان کے مقابلہ میں وزیراعظم کا انتخاب بھی لڑا ، عمران خان 176 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے شہباز شریف کو 96 ووٹ پڑے۔جس کے بعد شہبازشریف قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف نامزد ہوئے۔ شہبازشریف ایک متحرک لیڈر ہیں جو اپنی مضبوط اور بہترین ایڈمنسٹریشن کی بدولت پہچانے جاتے ہیں۔انہیں متحدہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزارت عظمی کا امیدوار نامزد کیا ہے ، نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف رکن پنجاب اسمبلی ہیں اور وزیراعلی پنجاب کے انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار ہیں۔











