ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سے آسٹریلیا کےتجارتی وفد کی ملاقات

29

اسلام آباد۔25اپریل  (اے پی پی):ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی  کہا ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ اقتصادیات، تجارت، تعلیم، دفاع، زراعت اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں جامع شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے، آسٹریلیا پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا دوبارہ قیام   خوش آئند قدم ہے۔  ان  خیالات کا اظہار انہوں نے  آسٹریلیا  کی قانون ساز کونسل کےممبرشوکت  ایم کی سربراہی میں تجارتی وفد  سے ملاقات کے دوران کیا ۔اس موقع پر  سینیٹرزفیصل سلیم، زیشان خانزادہ، بہرہ مند خان تنگی، افنان اللہ خان کے علاوہ سیکرٹری سینیٹ بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور اور پارلیمانی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور مغرب  میں اسلاموفوبیا کے تدارک کے حوالے سے   تفصیلی گفتگو کی گئی۔ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی  نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاک  ۔آسٹریلیا دوطرفہ تعلقات کی جڑیں مشترکہ مفادات، عوام سے قریبی رابطوں اور کرکٹ کے لئے ہماری مشترکہ محبت پر مبنی ہیں،امید کرتے ہیں کہ موجودہ خوشگوار تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے،  سیاست، تجارت اور معیشت، زراعت، تکنیکی تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت، سائنس اور ٹیکنالوجی اورکھیلوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ اقتصادیات، تجارت، تعلیم، دفاع، زراعت اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں جامع شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے اعلیٰ سطح کے رابطے اہم ہیں، دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے، آسٹریلیا پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا دوبارہ قیام ایک خوش آئند قدم ہے، آسٹریلیا کے لئے اسی طرح کا گروپ پاکستان کی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ دونوں فریقوں کے دوستی گروپوں کے درمیان  23 ستمبر 2021 کو ایک ورچوئل میٹنگ بھی ہو چکی ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بزنس کے رجحان کو بڑھانا ہماری ضرورت ہے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ملک میں کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کیلئے میری کافی معاونت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئےسینیٹ میں مختلف ممالک کے فرینڈشپ گروپس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاری خسارے کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے کہا کہ پاکستان کے مختلف چیمبرز اور ٹی ڈیپ کو آسٹریلیا میں ایکسپوز کے انعقاد کیلئے جلد بھیجیں گے تا کہ وہاں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے، پاکستان میں گوادر خطے کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام دوست ممالک کو گوادر میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹو انڈسٹری، آئی ٹی ، ٹرانسپورٹیشن جیسے شعبوں میں آسٹریلوی بزنس مین کو سرمایہ کاری کرنی چاہئے، اس وقت پاکستان میں آسٹریلیا کی تقریبا 19 کمپنیاں جوائنٹ ونچر میں کام کر رہی ہیں، گلوریا جینز کی پاکستان میں تقریبا 100 شاخیں ہیں، پاکستان میں بزنس کو فروغ دینا میری ترجیح ہے، آپ لوگوں کے کاروبار اور سرمایہ کاری میں آسانی پیدا کرنے کیلئے سینیٹ ہر ممکن کوشش کرے گا۔ سینیٹر فیصل سلیم نےدونوں ممالک کے درمیان سٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام شروع کرنے پر زور دیا۔ سینیٹر بہرہ مند خان تنگی نے آسٹریلوی وفد سے پاکستان میں معذور افراد کی مدد کی اپیل کی۔ ممبر آسٹریلوی لیجسلیٹیو کونسل نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کا تجارتی حجم 2 بلین ڈالر سے کم ہے جس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستان اور آسٹریلیا کے اچھے تعلقات رہے ہیں جس کو مزید بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ ممبر نیو ساوتھ ویلز لیجسلیٹیو کونسل نے کہا کہ آسٹریلیا میں بھی اسلاموفوبیا جیسے چیلنج سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کے ساتھ ساتھ قانون سازی بھی کی جا رہی ہے۔