موجودہ ہیٹ ویو کے دوران عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے، غذائی قلت اور آبی ذخائر میں کمی باعث تشویش ہے؛وفاقی وزیر شیری رحمن

8

اسلام آباد،16مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ گرمی کی لہر اور گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے رونما ہونے والے سیلاب سے نمٹنے کیلئے قومی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کی سربراہ وفاقی وزیر شیری رحمن ہوں گی، موجودہ ہیٹ ویو کے دوران عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے، ہیٹ ویو جون تک جاری رہے گی، عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں، رواں سال مون سون میں سیلاب کا خطرہ ہے کیونکہ پاکستان میں ہر سال شہروں میں بارش کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں جبکہ جاری موسمیاتی تناظر میں یہ خطرہ پہلے سے بڑھ چکا ہے جس کیلئے تمام تر اقدامات مکمل کر رہے ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پی آئی ڈی میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز ستی اور ایڈیشنل سیکرٹری برائے موسمیاتی جودت ایاز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن نے کہا کہ غیر متوقع ہیٹ ویو کی کسی کو توقع نہیں تھی، شمال میں ہیٹ ویو کی وجہ سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے ہیٹ ویو کے حوالے سے ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کی ہے جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کریں گی، ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس پیر کی شام ہو گا جس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، متعلقہ اداروں اور صوبوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شمال میں گلیشیئر پگھلنے کے باعث جھیل پھٹ گئی، ماحولیات کا نظام سائنس سے منسلک ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نجات ایک بٹن دبانے سے حل نہیں ہو سکتے، اقوام متحدہ نے پاکستان کو 23  خشک سالی سے متاثرہ ممالک میں شامل کیا، ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان 10 ممالک میں شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دریائے سندھ پانی کے حوالے سے ملک کی شہ رگ ہے، ہیٹ ویو کا پانی پر بھی اثر پڑتا ہے، پاکستان 2025 ء میں پانی کے تناسب سے شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ ایک عالمی مسئلہ ہے، ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ روزمرہ کی بنیاد پر دیکھاجانا چاہئے، وزارت ماحولیاتی تبدیلی میں کوئی کمیونیکیشن نہیں، خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی پر کئی سوالات اٹھے ہیں،31 جھیلیں موجودہ وقت میں کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہیں، برفانی جھیل کے پھٹنے سے لوگوں کے مکانات اور پل متاثر ہوتے ہیں، پنجاب اور سندھ میں ہزار ہزار ہیٹ ویو سینٹر بنا دیئے گئے ہیں، ہیٹ ویو کے دھوپ میں کام کرنے والوں پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ہیٹ ویو ابھی ملک میں جاری رہے گی، اس حوالہ سے صوبوں کو ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے، ہیٹ ویو کے حوالہ سے آگاہی بہت ضروری ہے، ہمیں اپنے رہن سہن کو تبدیل کرنا پڑے گا، بغیر کسی بہار کے موسم میں اس بار پاکستان موسم گرما میں داخل ہو گیا، بہار کا موسم پاکستان میں ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ کونسل کا آج تک اجلاس نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی کا کم استعمال کرنا ہو گا، کوئلے اور فرنس آئل  کے استعمال کو کم سے کم کرنا ہو گا، دیگر ترقی یافتہ ممالک کے گرین ہائوس اخراج کے باعث پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات جھیل رہا ہے، گلگت بلتستان کو کہہ دیا ہے کہ کسی بھی وقت جھیل پھٹ سکتی ہے، پاکستان پچھلے سال سب سے زیادہ آلودہ ملک تھا، گزشتہ سال شہر لاہور آلودگی میں سرفہرست رہا تھا۔

  شیری رحمان نے کہا کہ غذائی قلت اور آبی ذخائر میں کمی بہت بڑی تشویش ہے، 90  فیصد پاکستان کا پانی زراعت استعمال کرتا ہے، سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے دریا خشک کیوں ہو رہے ہیں، حکومت سے جلد درخواست کرنے والی ہوں کہ پلاسٹک کا استعمال ختم کر دیا جائے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز ستی نے کہا ہے کہ مقامی این ڈی ایم اے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر اتھارٹی کی بروقت تیاری اور محکمہ موسمیات کی پیشگی اطلاع کی وجہ سے انتظامات کئے جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ہنزہ میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے 9 مقامات مکمل طور پر، 6 جزوی اور ایک پل مکمل طور پر تباہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قراقرم میں عارضی پل نصب کیا گیا ہے، پل کی مکمل تعمیر میں 8 ماہ لگیں گے جس کا ڈیزائن این ایچ اے نے  مکمل کر لیا ہے جبکہ ایف ڈبلیو او اس کی تعمیر کرے گی، منصوبہ پر ابتدائی کام جاری ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات جو 10 سال بعد آنا تھے وہ آج آنا شروع ہوگئے ہیں، گلگت بلتستان میں این ڈی ایم اے نے دن رات کام کیا۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری برائے موسمیاتی تبدیلی جودت ایاز نے کہا کہ رواں سال تمام سائنسی اعداد و شمار کے برعکس موسمیاتی تبدیلی اور ہیٹ ویو 10 سال پہلے شروع ہو گئی ہے جس کے پاکستان پر مہلک اور دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔