اسلام آباد،27مئی (اے پی پی):پاکستان نے غیر قانونی طور پر نظربند سرکردہ کشمیری رہنماءمحمد یاسین ملک کو بھارتی عدالت کی جانب سے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے یہ معاملہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اٹھایا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ حکومت پاکستان نے محمد یاسین ملک کو ایک متنازعہ اور یک طرفہ کیس میں عمر قید کی سزا کے بھارتی فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔25 مئی کو اسلام آباد میں بھارت کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی عدالت کی طرف سے ایک انتہائی مشکوک اور من گھڑت مقدمے میں یاسین ملک کو سزا سنائے کے فیصلے پر پاکستان کا سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اس کی شدید مذمت اور فیصلے کو مسترد کرنے سے آگاہ کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے محمد یاسین ملک کو ایک من گھڑت مقدمے میں پھنسانے اور ایک جعلی اور یک طرفہ ٹرائل کرکے کشمیری قیادت کے خلاف سیاسی انتقام کی اشتعال انگیز کارروائی میں ایک بار پھر عدلیہ کا غلط استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی عدالت کی جانب سے ایک من گھڑت کیس میں محمد یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ وزیر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحہ کو خط لکھا ہے جس میں انہیں محمد یاسین ملک کی سزا اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے حریت رہنما کیخلاف جھوٹے اور سیاسی مقاصد کیلئے قائم مقدمے میں سزا پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو خط ارسال کیا ہے جس کا مقصد بھارت کے زیر تسلط غیر قانونی جموں و کشمیر میں خطرناک صورتحال سے متعلق عالمی برادری کی توجہ دلانا ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مچل بیچلٹ کو یہ خط بالخصوص اس تناظر میں لکھا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیریوں اور ان کے قائدین کو دبانے کیلئے جھوٹے مقدمات میں سزا دلانے کی کوشش کررہی ہے۔











