سکھر: فیڈرل شریعت کورٹ برانچ قیام کو تاریخی اور احسن اقدام ہے سندھ حکومت کے تعاون سے برانچ کا وجود عمل میں لایا گیا ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ شفیع محمد چانڈیو

19

سکھر،04مئی(اے پی پی) :ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ شفیع محمد چانڈیو نے فیڈرل شریعت کورٹ برانچ سکھر کو تاریخی اور احسن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے تعاون سے سکھر برانچ کا وجود عمل میں لایا گیا ہے۔ سکھر میں شریعت کورٹ برانچ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں کم عمر میں شادیوں کا بہت بڑا مسئلہ ہے، اب کم عمر شادیوں سمیت حدود کے مقدمات پر سماعتیں اس عدالت میں ہوں گی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ سکھر میں شرعی کورٹ کو مکمل کریں، فیڈرل شریعت کورٹ میں صرف دو جج ہیں، جلد از جلد آٹھ ججز کی باڈی مکمل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری  میں شادی کے قانون میں ترمیم کے کیس کو چیلنج کیا جاسکتا ہے لیکن اب تک کسی نے چیلنج نہیں کیا، اسلامی شرعی کونسل کو اس قانون کو چیلنج کرنا چاہیے تھا۔ سکھر میں شریعت کورٹ کا بنچ قائم کرنا ایک تاریخی اور خوش آئند اقدام ہے۔