اسلام آباد،28جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے وزارت اطلاعات و نشریات، داخلہ، خارجہ سمیت 8 وزارتوں کے 943 ارب 16 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 48 مطالبات زر کی منظوری دے دی، ان وزارتوں پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں جمع کرائی گئی تھیں جنہیں ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیا ہے ۔
منگل کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے وزیر خزانہ کی جانب سے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے کابینہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 11 کٹوتی کی تحریکیں پیش ہوئیں۔ مولانا عبدالاکبر چترالی اور وجیہہ اکرم نے اپوزیشن کی جانب سے یہ تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے شعبہ کابینہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 2 ارب 56 کروڑ 25 لاکھ 13 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 13 کٹوتی کی تحریکیں پیش ہوئیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی اور مولانا عبدالاکبر چترالی نے کٹوتی کی تحاریک پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے ہنگامی امداد اور بحالی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے ایک کٹوتی کی تحریک پیش ہوئی۔ ریاض مزاری اور افضل ڈھانڈلہ نے کٹوتی کی تحریک پیش کی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے انٹیلی جنس بیورو کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 10 ارب 31کروڑ 30 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے ایک کٹوتی کی تحریک پیش ہوئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے ایٹمی توانائی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 13 ارب 79کروڑ 40 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے ایک کٹوتی کی تحریک پیش کی گئی جو مولانا عبدالاکبر چترالی نے پیش کی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایک ارب 40 کروڑ 90 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے دو کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، نواب شیر وسیر نے یہ کٹوتی کی تحریک پیش کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے نیا پاکستان ہائوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 96 کروڑ 90 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 4 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، تحریک انصاف کے ریاض مزاری نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے وزیراعظم آفس (انٹرنل) کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 46 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 4 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، رکن قومی اسمبلی نواب شیر وسیر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے وزیراعظم آفس (پبلک) کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 2 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، مولانا عبدالاکبر چترالی نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 63 کروڑ 6 لاکھ 45 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 5 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، نواب شیر وسیر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے سرمایہ کاری بورڈ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 37 کروڑ 76 لاکھ 66 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 5 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، ریاض مزاری نے اپوزیشن کی جانب سے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے وزیراعظم معائنہ کمیشن کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 6 کروڑ 10 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 3 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، نواب شیر وسیر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 91 کروڑ 40 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 3 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، ریاض مزاری نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 6 ارب 20 کروڑ 30 لاکھ 67 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 7 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، جویریہ ظفر آہیر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 1 ارب 8 کروڑ 52 لاکھ 95 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 4 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، جویریہ ظفر آہیر نے اپوزیشن کی جانب سے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 2 ارب 40 کروڑ 90 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 3 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، نواب شیر وسیر نے اپوزیشن کی جانب سے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے سول سروسز اکیڈمی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 94کروڑ 90 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 1 کٹوتی کی تحریک پیش کی گئی ، ریاض مزاری نے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے شعبہ نیشنل سیکیورٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 14 کروڑ 29 لاکھ 72 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے دو کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، ریاض مزاری نے اپوزیشن کی جانب سے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے مشترکہ مفادات کونسل سیکرٹریٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 13 کروڑ 54لاکھ 50 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے 3 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں ، نواب شیر وسیر نے اپوزیشن کی جانب سے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے شعبہ کابینہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 71 ارب 36 کروڑ 63 لاکھ 16 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے ایک کٹوتی کی تحریک پیش کی گئی ، مولانا عبدالاکبر چترالی نے اپوزیشن کی جانب سے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 42 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے ایک کٹوتی کی تحریک پیش کی گئی ، نواز شیر وسیر نے اپوزیشن کی جانب سے یہ کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے سپارکو کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 7 ارب 39 کروڑ 50 لاکھ 92 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے ایٹمی توانائی کی ترقی پر مصارف سرمایہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 25 ارب 99 کروڑ 6 لاکھ 2 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی گئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی ترقی پر مصارف سرمایہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 28کروڑ 98 لاکھ 90 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا، اس پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک نہیں تھی۔ وزیر مملکت کی جانب کٹوتی کی ان تحریکیوں کی مخالفت کی گئی بعد ازاں سپیکر نے تمام مطالبہ زر ایوان میں منظوری کے لئے پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دے دی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ مواصلات کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 20 کروڑ 42 لاکھ 13 ہزار کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 21 تحریکیں پیش کی گئیں۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے یہ تحریک ایوان میں پیش کی۔ سپیکر نے کٹوتی کی تحریک ایوان میں پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیا اور یہ مطالبہ زر منظور کرلیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ مواصلات کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 22 ارب 39 کروڑ 16 لاکھ 92 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 5 تحریکیں پیش کی گئیں۔ جویریہ ظفر آہیر نے یہ تحریک ایوان میں پیش کی۔ سپیکر نے کٹوتی کی تحریک ایوان میں پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیا اور یہ مطالبہ زر منظور کرلیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 15 ارب 70کروڑ 90 لاکھ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 9 تحریکیں پیش کی گئیں۔ نواب شیر وسیر نے یہ تحریک ایوان میں پیش کی۔ سپیکر نے کٹوتی کی تحاریک ایوان میں پیش کیں جنہیں ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیا اور یہ مطالبہ زر منظور کرلیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ مواصلات کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 9 ارب 25کروڑ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 1 تحریک پیش کی گئی۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے یہ تحریک ایوان میں پیش کی۔ سپیکر نے کٹوتی کی تحریک ایوان میں پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیا اور یہ مطالبہ زر منظور کرلیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ بجلی کے ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 355 ارب 36 کروڑ 77 لاکھ 63 ہزار کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کٹوتی کی تحریک پیش کی جس کی وزیر مملکت نے مخالفت کی۔ بعد ازاں سپیکر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ پٹرولیم کے ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 71 ارب 67 کروڑ 52 لاکھ 97 ہزار کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 19 تحریکیں جمع کرائی گئیں۔ یہ تحریکیں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ، نزہت پٹھان اور جویریہ ظفر آہیر نے پیش کیں جن کی وزیر مملکت نے مخالفت کی۔ بعد ازاں سپیکر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 1 ارب 15 کروڑ 71 لاکھ 38 ہزار کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 4 تحریکیں جمع کرائی گئیں۔ یہ تحریکیں جویریہ ظفر آہیر اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پیش کیں جن کی وزیر مملکت نے مخالفت کی۔ بعد ازاں سپیکر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ بجلی کے ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 7 ارب 95 کروڑ 29 لاکھ 90 ہزار کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 2 تحریکیں جمع کرائی گئیں۔ یہ تحریکیں مولانا عبدالاکبر چترالینے پیش کیں جن کی وزیر مملکت نے مخالفت کی۔ بعد ازاں سپیکر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ پٹرولیم پر مصارف سرمایہ کے ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 1 ارب 48 کروڑ 50 لاکھ 9 ہزار کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی ایک تحریک جمع کرائی گئی۔ یہ تحریک ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پیش کی جس کی وزیر مملکت نے مخالفت کی۔ بعد ازاں سپیکر نے یہ کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ امور خارجہ کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 2 ارب 28 کروڑ 40 لاکھ 99 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 22 تحریکیں پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور مولانا عبدالاکبر چترالی نے یہ تحریکیں ایوان میں پیش کیں۔ جس کی وزیر خزانہ نے مخالفت کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے ایوان میں فارن مشنز کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 25 ارب 70 لاکھ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تین تحریکیں پیش کی گئیں۔ جویریہ ظفر آہیر اور مولانا عبدالاکبر چترالی نے یہ تحریکیں ایوان میں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ اطلاعات و نشریات کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 2 ارب 82 کروڑ 23 لاکھ 34 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 12 تحریکیں پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ اور جویریہ ظفر آہیر نے کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ وزیر مملکت نے شعبہ اطلاعات و نشریات کے ایک اور مطالبہ زر جس کی مالیت 6 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ 4 ہزار روپے تھی، وہ ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے 5 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ نے کٹوتی کی تحریک پیش کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے شعبہ اطلاعات و نشریات کے 1 ارب 33 کروڑ 25 لاکھ 73 ہزار روپے کا ایک اور مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی گئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ داخلہ کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی اخرجات کو پورا کرنے کے لئے 12 ارب 4 کروڑ 8 لاکھ 66 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 25 تحریکیں پیش کی گئیں۔ یہ تحریکیں ایوان میں جویریہ ظفر، ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ نے پیش کیں جس کی وزیر مملکت نے مخالفت کی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ نے شعبہ داخلہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 6 ارب 61 کروڑ 40 لاکھ روپے کا ایک اور مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا۔ جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی دو تحریکیں پیش کی گئیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے دارالحکومت اسلام آباد کے لئے 13 ارب 97 کروڑ 85 لاکھ 92 ہزار کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 12 تحریکیں جمع کرائی گئیں، ریاض مزاری نے ایوان میں کٹوتی کی تحریک پیش کی جس کی وزیر مملکت خزانہ نے مخالفت کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے کمبائنڈ سول آرمڈ فورسز کیلئے 162 ارب 66 کروڑ 95 لاکھ 39 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی ایک تحریک مولانا عبدالاکبر چترالی نے پیش کی۔
وزیر مملکت نے قومی اتھارٹی برائے انسداد دہشتگردی کے لئے 26 کروڑ 88 لاکھ 90 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی دو تحریکیں جمع کرائی گئیں، مولانا عبدالاکبر چترالی اور ریاض مزاری نے یہ تحریکیں ایوان میں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شعبہ داخلہ کا 9 ارب 9 کروڑ 30 لاکھ 9 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی ایک تحریک مولانا عبدالاکبر چترالی نے ایوان میں پیش کی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے ایوان میں تحریک پیش کی کہ شعبہ انسداد منشیات کے 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے ترقیاتی اخراجات پورے کرنے کے لئے 20 کروڑ 79 لاکھ 17 ہزار روپے دیئے جائیں جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی کوئی تحریک جمع نہیں کرائی گئی تھی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے شعبہ انسداد منشیات کا ایک اور مطالبہ زر جس کی مالیت 3 ارب 63 کروڑ 51 لاکھ 65 ہزار روپے تھی، ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 14 تحریکیں پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کٹوتی کی تحریک ایوان میں پیش کی جبکہ بقیہ کٹوتی کی تحریکوں کو اس کے ساتھ شامل کرلیا گیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے قومی اسمبلی میں تحریک پیش کی کہ شعبہ ریلوے کو 30 جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لئے 45 ارب 31 کروڑ 50 لاکھ روپے دیئے جائیں جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 30 تحریکیں جمع کرائی گئی تھیں، ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ ، ریاض مزاری اور مولانا عبدالاکبر چترالی نے کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے شعبہ ریلویز پر مصارف سرمایہ کی مد میں اخراجات پورے کرنے کے لئے 32 ارب 64 کروڑ 80 لاکھ 36 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی گئی تھی۔











