وفاقی حکومت نے اقتصادے سروے22۔2021ء جاری کر دیا، شرح نمو 5.97 فیصد، فی کس آمدنی 1798 ڈالر، زراعت کی شرح نمو 4.4 فیصد، صنعتی شعبہ 7.2 فیصد،مالیاتی خسارہ 2565 ارب روپے اورکرنٹ اکائونٹ خسارہ 13.8 ارب ڈالر رہا

17

 

اسلام آباد،9جون  (اے پی پی):وفاقی حکومت نے اقتصادے سروے 22۔2021ء جاری کر دیا ہے جس کے تحت رواں مالی سال کے دوران شرح نمو 5.97 فیصد، فی کس آمدنی 1798 ڈالر، زراعت کے شعبہ کی شرح نمو 4.4 فیصد، صنعتی شعبہ کی نمو 7.2 فیصد، تعمیراتی شعبہ کی نمو 3.1 فیصد، خدمات کے شعبہ کی نمو 6.2 فیصد، بڑی صنعتوں کی شرح نمو 0.4 فیصد، ایف بی آر کے محصولات کی وصولی 28.4 فیصد اضافہ کے ساتھ 5348 ارب روپے، مالیاتی خسارہ 2565 ارب روپے، مہنگائی کی شرح 11.3 فیصد، برآمدات 27.8 فیصد اضافہ کے ساتھ 26 ارب 80 کروڑ ڈالر، درآمدات 59.8 ارب ڈالر، تجارتی خسارہ 49.6 فیصد اضافہ کے ساتھ 32.9 ارب ڈالر، کرنٹ اکائونٹ خسارہ 13.8 ارب ڈالر، آئی ٹی کی برآمدات 29.26 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ ایک ارب 94 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، ترسیلات زر 7.6 فیصد اضافہ کے ساتھ 26 ارب 10 کروڑ، زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر رہے ہیں، براہ راست سرمایہ کاری  1.6 فیصد کمی کے ساتھ 1455.6 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال کے دوران مارچ کے آخر تک کل سرکاری قرضہ 44 ہزار 366 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جولائی سے اپریل  2022ء کے دوران تیل کا درآمدی بل 95.9 ارب ڈالر کے ساتھ 17 ارب 3 کروڑ ڈالر رہا، احساس کفالت پروگرام کے تحت مستفید ہونے والوں کی تعداد 80 لاکھ تک بڑھا دی گئی۔

 وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر بجلی خرم دستگیر خان، وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اقتصادی سروے جاری کیا۔ اقتصادی سروے 2021-22ء کے مطابق مالی سال 2022 میں خام قومی پیداوار کی شرح نمو میں 5.97 فیصد اضافہ ہوا تاہم اب بھی بنیادی کلیاتی معیشت عدم توازن کا شکار ہے مزید ملکی اور بین الاقوامی غیر یقینی حالات کی وجہ سے معیشت کو عدم استحکام کا سامنا ہے۔

 پاکستان کی معیشت نے کورونا وباء (مالی سال 2020 میں 0.94 فیصد سکڑائو) کے باوجود بحالی کی طرف پیش قدمی جاری رکھی اور گزشتہ مالی سال 2021 میں شرح نمو 5.74  فیصد رہی۔ دنیا جو کہ ابھی کووڈ19-کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی امیکرون کے پھیلائو ، افغانستان میں حکومت کی تبدیلی اور روس-یوکرین کے درمیان تنازع کی وجہ سے اس کی معاشی صورت حال غیر یقینی کا شکار ہے۔

 مالی سال  2022میں خام قومی پیداوار موجودہ منڈی کی قیمتوں پر 66,950 بلین روپے رہی جو کہ گزشتہ سال 55796بلین روپے تھی اس طرح اس میں 20.0 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ ڈالر کی اصطلاح میں یہ اضافہ 383 بلین ڈالر ہے۔ مالی سال 2022 میں فی کس آمدنی 1798ڈالر ریکارڈ کی گئی جو کہ خوشحالی میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔مالی سال 2022 میں بچت-سرمایہ کاری کے درمیانی فرق میں اضافہ ہوا۔ جولائی تا اپریل 2022 میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 13.8بلین ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ 0.5بلین ڈالر تھا۔ مالی سال 2022 میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے خام قومی پیداوار کا تناسب 15.1فی صد رہا جبکہ مالی سال 2021 میں یہ 14.6 فیصد تھا۔

نیشنل اکائونٹس کے اعدادا و شمار کے مطابق مالی سال 2022میں اشیاء اور خدمات کی برآمدات میں 39 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اشیاء اور خدمات کی درآمدات میں 46 فیصد اضافہ ہوا۔زراعت کے شعبے میں شرح نمو 4.4 فیصد شرح رہی جس کی بنیادی وجہ فصلوں میں 6.6 فیصد اور لائیوسٹاک میں  3.3فیصد اضافہ ہے۔ اہم فصلوں میں 7.2 فیصد، دیگر فصلوں میں 5.4 فیصد اور کاٹن جننگ کے شعبے میں 9.2 فیصد شرح نمو کی وجہ سے فصلوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ زراعت کے دیگر شعبوں جنگلات اور ماہی گیری میں بالترتیب6.1 فیصد اور  0.3فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

صنعتی شعبے میں مالی سال 2022 میں 7.2 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ گذشتہ مالی سال 2021 میں صنعتی شعبے کی کارکردگی میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑے پیمانے پر اشیاء سازی کا صنعت میں 65.0ٰ فیصد حصہ ہے۔ کان کنی اور کھدائی کے شعبہ میں منفی4.5 فیصد شرح نمو  جبکہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے ذیلی شعبہ جات میں 7.9فیصد شرح نمو میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تعمیراتی شعبہ میں 3.1 فیصد شرح نمو  میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

خدمات کے شعبہ میں شرح نمو میں 6.2فیصد کے اضافے کے ساتھ تھو ک و خوردہ تجارت کے کاروبار میں 10فیصد، ٹرانسپورٹیشن اور اسٹوریج کے شعبہ جات میں 5.4 فیصد، رہائش اور کھانے کی خدمات کی سرگرمیوں میں 4.1 فیصد، انشورنس اور مالیات میں 4.9 فیصد ترقی رہی۔ اراضی کی خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں 3.7 فیصد ، تعلیم کے شعبہ میں 8.7 فیصد ، صحت اور سماجی کاموں میں 2.2 فیصد جبکہ دیگر نجی خدمات میں 3.8 فیصد شرح نمو میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 مالی سال2021-22   کے دوران زراعت کے شعبے کی شرح نمو 4.40  فیصدپر حوصلہ افزاء رہی ہے جو کہ موجودہ سال کے 3.5ٰ فیصد ہدف اور گزشتہ سال کی شرح نمو 3.48سے زیادہ ہے۔ مالی سال 2021-22 کے دوران کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کی 7.064 ملین گانٹھوں کے مقابلے میں 8.329 ملین گانٹھیں پیدا ہوئیں اور اس کی پیداوار میں 17.9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

 مالی سال 2021-22 کے دوران چاول کی پیداوار 9.323 ملین ٹن رہی جو کہ گزشتہ سال کی 8.420ملین ٹن پیدوار سے 10.7فیصد زیادہ رہی۔مالی سال2021-22 کے دوران گنے کی پیداوار 88.651 ملین ٹن رہی جو کہ گزشتہ سال گنے کی پیداوار 81.009 ملین ٹن پیداوار سے 9.4 فیصدزیادہ رہی ۔ مالی سال2021-22 کے دوران مکئی کی پیداوار گزشتہ سال کی8.940 ملین ٹن پیداوار کے مقابلے میں 10.635 ملین ٹن رہی لہذا مکئی کی پیداوار میں19.0 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 2021-22 کے دوران گندم کی پیداوار 26.394 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جو کہ گذشتہ سال میں 27.464 ملین ٹن تھی لہذا اس میں 3.9 فیصدکی کمی دیکھی گئی۔دیگر فصلیں جن کا زرعی قدر اضافہ میں حصہ 13.86فیصد اورGDP میں 3.14 فیصد ہے انکی شرح نمو میں 5.44 فیصد کا اضافہ ہوا۔ جس کی وجہ دالیں (29.82 فیصد)، روغنی بیجوں 24.75)فیصد(، سبزیوں 11.52) فیصد(پھلوں (1.53فیصد) اور چارہ (0.36 فیصد) کی پیداوار میں اضافہ ہے۔ گلہ بانی جن کا زرعی قدر اضافہ میں حصہ 61.89 فیصد اورGDP میں حصہ 14.04 فیصد ہے اس کی شرح نمو پچھلے سال کی 2.38 فیصدشرح نمو کے مقابلے میں 3.26 فیصد رہی۔

ماہی  گیری کا شعبہ جس کا زرعی قدر کے اضافہ میں حصہ 1.39 فیصد اور GDP میں حصہ 0.32 فیصد ہے اس کی شرح نمو میں 0.35 فیصد اضافہ ہوا ، جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں اس شعبے کی شرح نمو 0.73 فیصد تھی۔ جنگلات کا شعبہ جس کا زراعت میں حصہ 2.14 فیصد ہے اور GDPمیں حصہ 0.49 فیصد ہے اس کی شرح نمو میں 6.13 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ اس کے مقابلے میںپچھلے سال کے اسی عرصہ میں اس شعبہ کی شرح نموم منفی 0.45 فیصد تھی۔مالی سال2021-22 کے دوران چنے کی پیداوار 319 ہزار ٹن رہی، لہذا چنے کی پیداوار میںپچھلے سال کے مقابلے میں 36.3 فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ موسم کی بہتر صورتحال اور بہتر بیج کی دستیابی کی وجہ سے ہوا۔ مالی سال2021-22 کے دوران مرچوں، آلو اور مونگ کی پیدوارمیں بالتریب 36.6، 35.1، 29.0 فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم ماش اور پیاز کی  پیداوار میںبالترتیب 11.6اور 8.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ جبکہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں مسور کی پیداوار ایک جیسی رہی۔مالی سال 2021-22 (جولائی تا مارچ) کے دوران تقریبا 778.2 ہزار ٹن خریف /ربیع کی فصلوں کے بہتر بیج مہیاکئے گئے۔

  مالی سال 2021-22 (جولائی تا مارچ) کے دوران زراعت کے قرض دینے والے اداروں نے 958.3 بلین روپے کی رقم تقسیم کی ہے جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 953.7 ارب روپے کی تقسیم کے حساب سے 0.5فیصد زیادہ ہے۔ خریف 2021کی فصلوں کے لیے پانی کی کل دستیابی 65.08 ملین ایکڑ فٹ ((MAF ریکارڈ کی گئی جو کہ خریف 2020 کی نسبت 0.05 فیصدکم رہی۔ربیع 2021-22 کے دوران پانی کی کل دستیابی 27.42 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کی گئی جوکہ ربیع 2020-21 سے 12 فیصد کم ہے۔ مالی سال 2021-22(جولائی تا مارچ) کے دوران کھاد کی ملکی پیداوار میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں پیداوار  1.9فیصد کا اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ FatimaFert اور Agritech اضافی گیس کی فراہمی ہے۔ جبکہ کھاد کے استعمال میں 6.2فیصد کم ہوئی۔ جولائی تا مارچ مالی سال 2022 کے دوران بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ(ایل ایس ایم) کی شرح نمو میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں شرح نمو 4.2 فیصد تھی۔صنعت سے متعلق اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ فرنیچر کی مصنوعات میں سب سے زیادہ اضافہ 301.8 فیصد، لکڑی کی مصنوعات 157.5 فیصد، آٹو موبائل 54.1 فیصد، دوسری صنعت سازی (فٹ بالز) 37.8 فیصد، ملبوسات(Wearing Apparel) 34.0 فیصد، لوہے اور سٹیل 16.5 فیصد، تمباکو 16.7 فیصد، خوراک 11.7 فیصد، مشینیں اور آلات 8.9 فیصد، کیمیکلز 7.8 فیصد، ٹیکسٹائل 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصہ کے دوران جن شعبوں میں منفی نمو ریکارڈ کی گئی ان میں ربڑ کی مصنوعات 20.6 فیصد، دوسری نقل و حمل آلات 10.2 فیصد، فیبری کیٹڈ دھات 7.2 فیصد، برقی آلات 1.1 فیصد، دواسازی 0.4 فیصد رہی۔کان کنی اور سنگ کنی کے شعبے میں مالی سال 2022 کے دوران 4.5 فیصد کمی ہوئی جبکہ پچھلے سال یہ شرح مثبت 1.2 فیصد رہی۔کوئلہ، قدرتی گیس، کرومائیٹ، خام تیل اور بیریٹس میں بالترتیب 4.5، 25.7، 8.3 اور 162.5 فیصد اضافہ واقع ہوا تاہم چند معدنیات کی نمو زیر جائزہ عرصہ میں منفی رہی جیسے میگنی سائٹ 52.3 فیصد، جپسم 37.0 فیصد، چونا پتھر 33.3 فیصد اوچر 25.5 فیصد اور پہاڑی نمک 24.2 فیصد رہا۔