گزشتہ تمام وزارئے اعظم   نے  25 ہزار ارب قرض لیا، جبکہ صرف عمران خان نے  20ہزار ارب سے زائد قرض لیا؛ وفاقی وزیر خزانہ  مفتاح اسماعیل 

11

اسلام آباد،7جون  (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ گزشتہ تمام وزارئے اعظم   نے  25 ہزار ارب قرض لیا،‏ جبکہ صرف عمران خان نے  20ہزار ارب سے زائد قرض لیا ہے ۔

منگل کو یہاں وزارت خزانہ کے زیر اہتمام نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالہ سے بزنس، آئی ٹی، زراعت اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور شراکت داروں سے مشاورت کیلئے منعقدہ پری بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 1952ء کے بعد پہلی مرتبہ ہماری منفی گروتھ ہوئی جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا، پاکستان کے قرضوں میں اضافہ کی شرح زیادہ رہی، اس سال 5 ہزار 600 ارب روپے خسارے کا اندیشہ ہے، ہمارے گذشتہ پانچ سالہ دور میں اوسط خسارہ 1650 ارب روپے تھا جبکہ جاری مالی سال میں 5600 ارب روپے کا اوسط خسارہ متوقع ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں قرضہ کی اوسط 2132 ارب روپے رہی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ اوسط 5177 ارب روپے ریکارڈ کی گئی ہے، ہم نے اوسط 2132 ارب روپے کے قرضوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا، بجلی اور گیس کے پلانٹس لگائے گئے، گوادر کو ترقی دی گئی جبکہ موٹرویز بھی بنائی گئیں۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ لیاقت علی خان سے لے کر ناصر الملک تک کی حکومتوں نے 70 برسوں میں 25 ہزار ارب روپے کے قرضے حاصل کئے جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا، ملکی تاریخ میں مجموعی قرضوں میں سب سے زیادہ 80 فیصد تناسب کے ساتھ عمران خان کی حکومت نے قرضہ لیا ہے، نئے مالی سال میں ہم نے 3900 ارب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے۔