اسلام آباد،16جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ عمران حکومت میں ملک دیوالیہ ہونے جارہا تھا، اتحادی حکومت ملک میں معاشی استحکام لے کر آئی ہے ، موجودہ حکومت نے عوام کو سستا گھی، آٹا اور چینی کی فراہمی یقینی بنائی ہے جبکہ زراعت کے شعبہ میں، بیج، ٹریکٹر اور کھاد پر ٹیکس ختم کیا گیا ہے اور 40ہزار روپے سے کم آمدنی والے 60 لاکھ خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا۔
ہفتہ کو وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ معاشی استحکام عوامی خوشحالی اقتصادی جائزہ کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ
ی این ایس، اسلام آباد
جب ہم نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو بین الاقوامی منڈی میں اشیا کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا ، کوئلے کی قیمتیں، ایل این جی کی قیمتیں، خوراک کی قیمتیں اور تیل (ایندھن) کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی تھیں اور بین الاقوامی معیشت سست روی کا شکار تھی۔ امریکہ میں بھی اشیائے خوردنی کی قیمتیں آسمان کو چھو گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے باوجود ہم نے2022-23 کے بجٹ کی ترجیحات کو اس طرح متعین کیا ہے جس سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا اور عوام کو خوشحالی میسر آئے گی۔ غیر پیداواری اثاثوں پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ امیر طبقات پر سپر ٹیکس متعارف کرایا گیا ہے۔ 1600 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ایڈوائس ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا جبکہ زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے بیج ، ٹریکٹر اور کھادوں پر سبسڈی دی گئی اور جی ایس ٹی ختم کر دیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو بھی ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے ، برآمدات میں اضافے کیلئے موجودہ حکومت نے ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں 40.5 ارب روپے دیئے ہیں اور آئی ٹی سیکٹر کیلئے 17 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔











