ہدف پورا کرنے کیلئے  ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا گیا ؛ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

25

اسلام آباد،1جولائی  (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ جون میں ایف بی آر نے ریکارڈ 763 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، پہلی مرتبہ ملکی تاریخ میں 105 ارب روپے  ٹیکس جمع ہوا جو پچھلے سال سے 55 فیصد زیادہ ہے، ہدف پورا کرنے کیلئے  ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا گیا۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے پچھلے سال کی نسبت 45فیصد زائد ٹیکس اکٹھے کئے، ایف بی آر نے ٹیکس کی مد میں 700 ارب سے زائد روپے جمع کئے اور ہم نے سابق دور سے زیادہ ٹیکس جمع کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جون میں 379 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں لیا اور ایک روپیہ بھی ہم نے ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا، ایف بی آر نے تاریخی ٹیکس اکٹھے کئے جبکہ ایک ماہ میں 580 ارب روپے کا وصولیوں کا ریکارڈ تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت میں آتے ہی مشکل فیصلے لینے پڑے اور اس کے اب مثبت اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں، آئندہ تین چار ماہ کے دوران ہم ان مسائل سے نکل کر بہتری کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو فکس کیا تھا جس سے ملک کو نقصان کی طرف دھکیل دیا گیا تھا، پی ٹی آئی کے معاہدے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر 7 فیصد ٹیکس عائد ہونا تھا، عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ توڑا  اور معیشت کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مثبت بات چیت ہوئی ہے، دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، ہم نے کوشش کی ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنا ہماری مجبوری ہے، جو معاہدہ عمران خان کر گئے تھے اسی کو ہم نے بحال کیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں کافی کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول پر 10 روپے لیوی، لائٹ ڈیزل  اور مٹی کے تیل پر 5،5 روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔

   انہوں نے کہا کہ379ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کیا گیا،تین ماہ کی ٹیکس وصولی میں 29فیصد اضافہ ہوا۔ٹیکس  اداکرنے والے تمام پاکستانیوں کا شکر گزار ہوں۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ چنددنوں میں آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ ہوجائےگا۔