اسلام آباد، 30 جولائی (اے پی پی ): بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے ہفتہ کو بلوچستان ہائوس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم لاپتہ افراد کی بات کرتے ہیں لیکن سیکیورٹی اداروں کے شہدا کی کیوں نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک ظہیرنامی شخص نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ وہ مسنگ نہیں تھا بلکہ غیرقانونی سرحد عبور کرنے کے جرم میں ایران میں سزا کاٹ رہا تھا، ایسے کئی واقعات ہوں گے لیکن ہمارے بعض نادان بھائی بیرونی سازش کا شکار ہیں، وہ بیرونی سازشوں کو سمجھیں کیونکہ اس سے نہ صرف بلوچوں بلکہ ریاست کو نقصان ہو رہا ہے، میں انہیں دعوت دیتی ہوں کہ قومی دھارے میں آئیں۔
فرح عظیم شاہ نے کہا کہ زیارت کا واقعہ سب کے سامنے ہے جس میں کرنل لئیق اور ان کے کزن کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا اور اس کے بعد کچھ لوگوں نے دھرنادیا اور کہا کہ زیارت میں مسنگ پرسنز کو مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس مسئلے پر بات کرتے ہوئے مجھے اندازہ ہے کہ اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں لیکن بحیثیت مسلمان مجھے اس بات پر یقین ہے کہ عزت، ذلت، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی لئے آج میں بطور بلوچ خاتون بلوچوں اور پاکستان کا درد رکھتے ہوئے اپنے ناراض بھائیوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کر رہی ہوں کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑیں اور قومی دھارے میں شامل ہوں، ملک، قوم اور اپنے ان اداروں کو بدنام نہ کریں جن کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔











