کپاس کی بحالی اور بقا ء ہماری اولین ترجیح ہے، زرعی معیشت کا زیادہ تردارومدار اسی فصل پر ہے؛ وزیر زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی

2

ملتان، 10 اگست (اے پی پی ): وزیر زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ کپاس کی بحالی اور بقا ء ہماری اولین ترجیح ہے کیونکہ کپاس کی فصل ہی ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہے، زرعی معیشت کا زیادہ تر دارومدار بھی اسی فصل پر ہے۔

ان  خیالات  کا  اظہار  انہوں نے  بدھ کو یہاں  وزار ت زراعت کا قلم دان سنبھالنے کے بعدمینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان میں کپاس کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے   اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں آئی پی ایم پلاٹس سمیت کپاس کی فصل پر حملہ آور کیڑوں کی شدت و کنٹرول کی نوعیت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی نے کہاکہ گزشتہ برس بہتر ٹیم ورک سے ہم کپاس کی فصل کو بحال کرنے میں کامیاب ہوئے، یہی وجہ ہے کہ امسال زیادہ رقبہ پر کپاس کاشت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کا مستقبل آئی پی ایم سے منسلک ہے،آئی پی ایم پر عملدرآمد سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ کاشتکاروں کی لاگت میں بھی واضح کمی واقع ہوتی ہے۔

 صوبائی  وزیر زراعت نے  کہا کہ اگست، ستمبر کے مہینے کپاس کی بہتر نگہداشت کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ ابھی تک ایسی صورت حال نہیں ہے کہ ہم مایوس ہوں، ہم اپنی پوری کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مقرر کردہ پیداواری ا ہداف کے قریب پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے آئندہ باقاعدگی سے پندرہ روزہ میٹنگز کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیولوجیکل لیبارٹریوں میں افزائش کئے گئے مفید کیڑے کاشتکاروں کو مفت فراہم کئے جارہے ہیں۔

 اس موقع پر سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب  ثاقب علی عطیل نے اجلاس کے شرکاء  کو بتایا کہ کپاس کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کیلئے کپاس کی کاشت کے تمام اضلاع میں مانیٹرز مقرر کئے گئے ہیں جو اپنے اپنے علاقوں کے باقاعدگی سے دورے کررہے ہیں اور کپاس کی صورت حال بارے رپورٹس شیئر  کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سیزن بہتر حکمت عملی اور مینجمنٹ کے فصل کی پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہونگے، ابھی تک اپریل کاشتہ فصل سے 275 فیصد زیادہ پیداوار حاصل ہورہی ہے اگر یہی ٹرینڈ برقرار رہا تو پیداواری ہدف باآسانی حاصل ہوجائے گا، کپاس کی فصل پر ابتدائی دنوں میں زرعی زہروں کے استعمال میں تاخیر کرائی گئی جس کے نتیجے میں دوست کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور نقصان د ہ کیڑے معاشی حد سے نیچے رہے۔

 ثاقب علی عطیل نے کہا کہ قدرتی آفات کے باوجود اپریل کاشتہ فصل سے بہتر پیداوار حاصل ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کپاس کے 121 آئی پی ایم نمائشی پلاٹ لگائے گئے تھے۔ آئی پی ایم پر کاشتکاروں کے اعتماد میں اضافہ کے نتیجہ میں امسال 2 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کے 235 آئی پی ایم نمائشی پلاٹ لگائے گئے ہیں جو بہترین حالت میں موجود ہیں اور ان سے بہتر پیداوار حاصل ہورہی ہے۔

 اس موقع پر اجلاس کے شرکا کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کپاس کی فصل کو ہیٹ ویو اور غیرمعمولی بارشوں کی وجہ سے مختلف چیلنجز درپیش ہیں۔ ہیٹ ویو کی وجہ سے قریباً 80 ہزار ایکڑ جبکہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے قریباً71 ہزار ایکڑ پر کاشتہ کپاس کی فصل متاثر ہوئی ہے۔مارچ اور اپریل میں پانی کی کمی اور زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے فصل دباؤ کا شکار رہی لیکن اس کے باوجود اگیتی کاشتہ فصل سے 10سے30من فی ایکڑ پیداوار حاصل ہورہی ہے۔

اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب (ایڈمن) سید نوید عالم، ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ رانا فقیر حسین، ڈائریکٹر کاٹن ڈاکٹر صغیر احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب نوید عصمت کاہلوں سمیت و دیگر نے شرکت کی۔