اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین انجینئر نجیب ہارون نے کہا ہے کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کیلئے صحت و تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے زیر اہتمام ’’صحت عامہ کے شعبہ میں جدت ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا اہتمام السن گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ تقریب میں طبی اور تعلیمی ماہرین سمیت سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔ انجینئر نجیب ہارون نے کہا کہ دنیا کی دیگر اقوام نے غربت کا خاتمہ کر کے ترقی کی منازل طے کی ہیں جبکہ پاکستان ابھی تک ترقی میں بہت پیچھے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ملک میں انجینئرنگ کے شعبہ کو ترقی دینے کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر السن گروپ کے چیئرمین عبدالرحمن الانہ نے کہا کہ ہمیں ملک کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے مغربی اور دیگر اقوام کی جانب دیکھنے کی بجائے ملک میں ماہرین اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے بل بوتے پر ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ترقی کیلئے کام کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد ہم نے ملکی سطح پر وینٹی لیٹرز کی تیاری شروع کی جن کی کامیاب آزمائش کی جا چکی ہے ، حکومت کی جانب سے حتمی منظوری کے بعد ان کی بڑے پیمانے پر تیاری ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک نے بھی یہ کام شروع کیا تاہم پاکستان نے ان پر سبقت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید کمپنیوں کو بھی اس شعبہ میں آگے آنا چاہئے۔ معروف برطانوی طبی ماہر پروفیسر ڈیوڈ ہاورڈنے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال میں پاکستان بہت زیادہ ترقی کر سکتا ہے، پاکستان کے طبی شعبہ کو جدید بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے، کورونا وائرس کی وبا سے پہلے بھی دنیا میں ہر سال نمونیہ سے 15 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے تھے جبکہ تپ دق سے ہر سال 15 لاکھ لوگ مر جاتے ہیں، افغانستان اور پاکستان میں پولیو سے نمٹنے کیلئے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں برطانیہ کے سرکاری ترقیاتی معاونت کے تحت پاکستان کو 3.5 ملین پائونڈ کی امداد دی گئی جبکہ دوسرےنمبر پر ایتھوپیا کو 300 ملین اور افغانستان کو292 ملین پائونڈ کی امداد دی گئی۔











