اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری نے کہا ہے کہ حکومت مختلف پلیٹ فارمز پر سیلاب اور موسمی تبدیلیوں کا مسئلہ اٹھا رہی ہے۔بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے، کچھ ممالک کی آبادی جتنے لوگ پاکستان میں بے گھر ہوئے ہیں،ان کی امدادکی جا رہی ہے، اب تک 52 ارب روپے سے زائد رقم 21 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کی جا چکی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے اپنے یونیک ڈیٹا کی بدولت لوگوں تک بروقت امداد پہنچائی۔انہوں نے کہا کہ 9 لاکھ سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں کو خصوصی خوراک پہنچائی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے سیلاب متاثرین کو بروقت امداد فراہم کی ہے ، سیلاب سے متاثرہ 2,133,248 خاندانوں میں 53ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ملک بھر میں حالیہ غیر معمولی بارشوں اور تباہ کن سیلابوں سے متاثرہ خاندانوں کو بروقت امداد فراہم کی ہے، ابتدائی طور پر فلڈ ریلیف کیش اسسٹنس پروگرام کے تحت 28 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی ۔ بعدازاں پیکیج کی رقم بڑھا کر70 ارب روپے کر دی گئی اور نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) کے ذریعے مزید متاثرہ خاندانوں کی شناخت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں فلڈ ریلیف کیش اسسٹینس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 2,133,248 سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 53,331,200,000 روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ 162,537 خاندانوں کو 4,063,425,000روپے مل چکے ہیں۔ سندھ میں 1,499,019 خاندانوں کو 37,475,475,000روپے مل چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 229,133 خاندانوں کو 5,728,325,000 روپے مل چکے ہیں۔ پنجاب کے 242,205 خاندانوں کو 6,055,125,000روپے موصول ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں سیلاب سے 354متاثرہ خاندانوں کو 8,850,000روپے مل چکے ہیں۔ مجموعی طور پر بدھ کو سیلاب سے متاثرہ 111,558 خاندانوں نے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم مختلف کیمپوں سے نقد امداد موصول کی ہے۔











