گلگت،18 اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے زرعی اصلاحات سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی خود انحصاری کیلئے حکومت انقلابی اقدامات کررہی ہے، مستقبل میں سب سے بڑا چیلنج فوڈ سیکورٹی کا درپیش ہوگا، زرعی اجناس، لائیو سٹاک اور فشریز کی پیداوار میں گلگت بلتستان میں خودکفیل بنانا حکومت کا اہم ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کی دس سالہ پلان کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع سفارشات اور اصلاحات متعلقہ فورم میں پیش کرے تاکہ ان شعبوں میں خود کفالت کی منزل حاصل کرسکیں۔
وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹرز اور متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ غیر معیاری کھاد اور زرعی ادویات کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کریں، مقامی کسانوں کی خوشحالی کیلئے روایتی طریقوں کے بجائے جدید طریقے متعارف کرانے کیلئے محکمہ زراعت اقدامات کرے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہارٹی کلچرکے فروغ کیلئے محکمہ زراعت تجاویز متعلقہ فورم میں پیش کرے۔ انہوں نے سیکریٹری زراعت کو ہدایت کی کہ آئندہ پانچ سالوں میں مقامی سطح پر گندم کی پیداوار 10 لاکھ بوری کا حصول ممکن بنانے کیلئے لائحہ عمل مرتب کریں۔ مقامی سطح پر گندم کی سپورٹ پرائس کا تعین کرنے کیلئے سیکریٹری زراعت اور سیکریٹری خوراک سمری تیار کرکے منظوری کیلئے پیش کریں۔
وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے کہاکہ ای ٹی آئی کے تحت آباد کئے جانے والے زمینوں میں گندم کی کاشت کو فروغ دیں، مقامی کسانوں کو تکنیکی معاونت و زرعی سروسز فراہمی یقینی بنانے کیلئے محکمہ جامع سفارشات پیش کرے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مقامی سطح پر نرسریوں کی تعداد میں اضافے کیلئے کمیونٹی کی شراکت کو یقینی بناتے ہوئے اقدامات کئے جائیں۔ محکمہ زراعت 10سالہ منصوبہ بندی کے تحت مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے پھلوں کی پیداوار میں اضافے کیلئے اقدامات کرے۔ حکومت زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کی ترقی کیلئے نجی شعبے کو راغب کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، محکمہ اس حوالے سے بھی سفارشات تیار کرے۔











