قومی راز عیاں نہیں ہونے چاہئیں، آڈیو لیکس کی تحقیقات ہونی چاہئے؛صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی   

11

اسلام آباد،6اکتوبر  (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قومی راز عیاں نہیں ہونے چاہئیں، آڈیو لیکس کی تحقیقات ہونی چاہئے، صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایک قابل عمل طریقہ کار ہے جس سے انتخابی عمل پر تحفظات دور کئے جاسکتے ہیں، بیرون ملک 30 لاکھ پاکستانیوں  کوووٹ کا حق ملنا چاہئے،  پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال  افغانستان کا خواہاں ہے، کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے۔

 جمعرات کو چوتھے پارلیمانی سال کی تکمیل اور پانچویں پارلیمانی سال کے آغاز کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پارلیمان کے چوتھےسال کی تکمیل اور پانچویں سال کے آغاز پر ارکان پارلیمنٹ کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔میں یہاں پر آپ کے سامنے قائد اعظم کا قول پیش کرنا چاہتا ہوں  جس میں انہوں نے کہا  کہ خدا نے ہمیں ایک عظیم موقع دیا ہے کہ ہم ایک نئی ریاست کے معمار کے طور پر اپنی قابلیت کو ثابت کریں  اور کوئی یہ نہ کہہ  سکے کہ ہم  اپنی ذمہ داری کے ساتھ  انصاف نہ کر سکے۔   میں اس ذمہ داری کا بھی احساس دلانا چاہتا ہوں  کہ آزادی کا حصول کتنا  مشکل ہے اور جمہوریت کو پروان چڑھتے  رہنا چاہیے  تاکہ  ہمارا  ملک مزید مضبوط ہو۔ میں اللہ تعالی کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں درپیش مسائل سے جلد نجات عطا فرمائے ۔

صدر مملکت نے کہا کہ  ہمیں  اس سال مون سون کی شدید بارشوں کی وجہ سے  ایک  “سیلاب ِ عظیم ” کا سامنا ہے جس کی  وجہ سے ہمیں  شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ۔  سیلاب سے اب تک  تقریبا  15 سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور گھروں، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کو  بھی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں سب سے پہلے ان تمام اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں  کہ جنہوں نے سیلاب متاثرین کو بچایا اور  انہیں مدد فراہم کی۔ ان اداروں میں سرفہرست  پاکستان کی افواج ہیں  جنہوں نے اس بحران میں  انتہائی منظم انداز میں لوگوں کی جانیں بچائیں۔ اس کے ساتھ ہی میں دیگر اداروں کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن میں  این ڈی ایم اے،  پی ڈی ایم اے ، صوبائی حکومتیں  ، این جی اوز  اور ہلالِ احمر  کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ادارے سیلاب کے فورا بعد لوگوں کی امداد کو پہنچے اور اب سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کاوشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس  کے علاوہ ، میں مخیر حضرات  اور نجی اداروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے بڑے پیمانے پر   رقومات جمع کر کے سیلاب زدگان میں تقسیم کیں۔ یہاں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھی ذکر کروں گا کہ جس کی مدد سے سیلاب متاثرین کو رقوم کی فراہمی ممکن بنائی گئی اور اب تک 24 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرہ  خاندانوں میں61  ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔  میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری  جنرل   انتونیو گوتریس کا بھی انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین  کا احوال جاننے کیلئے ان سے ذاتی طور پر ملاقاتیں بھی کی۔ ہم30 اگست 2022  ء کی 160 ملین ڈالر کی فلیش اپیل اور  پھر اسے816   ملین ڈالر تک بڑھانے کی کال کو سراہتے ہیں اور اس سے سیلاب متاثرین کو ایک مربوط انداز میں امداد پہنچانے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورہ بین الاقوامی برادری کی توجہ سیلاب متاثرین کی حالت زار کی جانب مبذول کرانے اور بین الاقوامی امدادی کوششوں کو متحرک کرنے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کے وفد کے بھی شکر گزار ہیں کہ وہ ممبر کانگریس شیلا جیکسن  کی قیادت میں پاکستان تشریف لایا ۔ اس کے علاوہ غیر ملکی معززین اور پاکستان میں مقیم سفرا بھی سیلاب زدہ علاقوں میں گئے جس سے انہیں سیلاب کی تباہ کاریوں کا اندازہ لگانے میں مدد ملی۔  موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے اس سیلاب کی شدت اور تباہی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔  پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر گرین ہاس گیسز کے اخراج میں حصہ  ایک فیصد سے بھی کم ہے ، مگر پاکستان  کو موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے منفی اور مضر اثرات کی  بہت بڑی قیمت چکانا پڑ رہی ہے ۔

 صدر مملکت نے کہا کہ وہ اس ایوان میں موجود اراکین پارلیمان ، اکابرین اور حکومت سے وابستہ افراد سے گزارش کرتے ہیں کہ ایمرجنسی ریلیف اور ریسکیو خدمات کی فراہمی کیلئے بوائے سکائوٹس اور گرلز گائیڈز  کی خدمات امداد اور ریسکیو اور زخمیوں کو ایمرجنسی طبی امداد فراہم کرنے کیلئے حاصل کی جاسکتی ہیں۔  قیام ِ پاکستان کے بعد بوائے سکائوٹس ایسوسی ایشن اور گرل سکائوٹس  کا قیام عمل میں لایا گیا۔  اس کے علاوہ ، پاکستان میں نیشنل کیڈٹ کور  کے ذریعے نوجوانوں کو  بنیادی فوجی تربیت کے علاوہ ایمرجنسی صورتوں سے نمٹنے کی بھی تربیت دی جاتی تھی۔

 صدر مملکت نے کہا کہ آج جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں سیلاب کا سامنا ہے اور مستقبل میں بھی ایسی آفات کا خطرہ بڑھ گیا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے ہم اپنے نوجوانوں کو بحران اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے علاوہ سی پی  آر اور  ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت دیں، ہنگامی صورتحال کہیں بھی اور کسی بھی جگہ پیدا ہو سکتی ہے  لہذا، ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان ہمہ وقت ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔ میں یہاں  اس امر پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ تمام ادارے مل کر خون عطیہ کرنے کی مہم ، بحران  اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے نوجوان نسل کو تیار کریں ۔

  صدر مملکت نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے ہمارے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں  اور یہ خطرہ ہے کہ  اہم فصلیں جس میں چاول ، گندم، کپاس  شامل ہیں ، ان کی پیداوار میں کمی واقع ہوگی ۔ اس حوالے سے حکومتوں کو فصلوں کی انشورنس کے حوالے سے کسان دوست  فصل انشورنس سکیم لانے پر بھی غور کرنا چاہیے ۔   اس میں نجی انشورنس کمپنیوں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی کسانوں کو انشورنس   فراہم کرنے پر غور کر سکتی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اگر  ہم  ڈیموں کی مدد سے سیلاب کے پانی کو محفوظ کر  لیں تو   نہ صرف خشک موسم میں  پانی  کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے  بلکہ پانی کو محفوظ کرنے کے جدید طریقوں کو اپنا کر ہم  زیر زمین پانی کی سطح کو بلند کر سکتے ہیں ، اپنے زمینی پانی کے ذخائر میں اضافہ کر سکتے ہیں  اور سیلابی ریلے  جو شدید تباہی کا باعث بنتے ہیں ان سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔

 ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مجھے سیلاب زدہ علاقوں  کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور اس دوران اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پہاڑوں   سے آنے والے سیلابی ریلے   کی تباہ کاریوں کو مختلف چھوٹے یا بڑے ڈیموں کی مدد سے  کم کیا جا سکتا ہے  اور یہ ڈیم پانی کی رفتار کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر میں نوشہرہ کی بھی مثال دینا چاہوں گا کہ وہاں بندکی تعمیر کی وجہ سے شہر کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے ہمیں ایسے اقدامات پر خصوصی  توجہ دینا ہوگی ۔ ان اقدامات سے نہ صرف ہم سیلاب کی تباہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اپنے پانی کے ذخائر میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں ۔ پاکستان  میں بارشوں  اور دریائوں سمیت مختلف آبی ذرائع سے تقریبا 150 ملین ایکڑ فٹ   پانی حاصل ہوتا ہے ، مگر  پانی ذخیرہ   نہ کرنے  اور اس کے موثر انتظام اور تقسیم  نہ ہونے کی وجہ سے  ایک بڑی مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان  کی ایک بڑی آبادی اور اس کی صنعتوں کا انحصار زرعی شعبے پر ہے ۔ پاکستان  میں آزادی کے وقت دنیا کا ایک بہترین آبپاشی کا نظام موجود تھا  لیکن ہمارے ہاں فصلوں کی پیداوار دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے ۔ دنیا نے  زرعی شعبے اور فصلوں  اور زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے اعتبار سے بے پناہ ترقی کی  ہے ۔ رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے تقریبا 19 گنا چھوٹا ملک نیدرلینڈ دنیا کا  دوسرا بڑا خوراک کا برآمدی ملک ہے  اور اس کے پیچھے زرعی نظام  کو بہتر بنیادوں پر استوار کرنا اور اسکی بہترین  نظم و نسق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی زمین اور پانی پاکستان کے پاس موجود ہے  اگر ہم زرعی شعبے کو جدید بنیادوں پر ترقی دیں تو نہ صرف ہم اپنی  زرعی ضروریات پوری کر سکتے ہیں  بلکہ انہیں برآمد بھی کر سکتے ہیں ۔  اس کیلئے ہمیں زرعی شعبے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقی دینا ہوگا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ  پاکستان کی  بڑی کامیابیوں میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا ہے ۔ دہشت گردی کا جس انداز سے پاکستان نے مقابلہ کیا  دنیا میں کہیں نہیں کیا گیا۔ ہم نے دہشت گردی کو بارڈر تک محدود رکھا حالانکہ ہمارے مغرب میں دہشت گردی کی وجہ سے بڑی تباہی ہوئی۔ دہشت گردی کو شکست دینا ہماری بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ ، پاکستان نے40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو 40 سال تک پناہ دی ۔دنیا میں پناہ گزینوں کے رنگ اور نسل کی بنیاد پر انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے ۔ اس کے علاوہپاکستانی قوم نے حال ہی  میں کورونا وبا کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔

 صدر مملکت نے کہا کہ میں علما ، میڈیا،  حکومت، عوام اور تمام اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہو ں  جنہوں نے نہایت موثر انداز میں اس وبا پر قابو پایا۔ این سی او سی  اور حکومتی پالیسی کی وجہ سے  اپنے پڑوسی  ملک اور دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں بہت کم نقصان ہوا اور اس کامیابی پر بحیثیت ِ قوم پاکستانی خراج ِ تحسین کے مستحق  ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے  اور ہماری آبادی کا تقریبا 63  فیصد حصہ15 سے33 سال کے نوجوان افراد پر مشتمل ہے جو کہ35 ملین کے قریب بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک بہت بڑی طاقت اور انسانی وسائل موجود ہیں ۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہماری قوم کیلئے تعلیم بے حد ضروری ہے ۔ حالیہ کچھ اندازوں کے مطابق ، پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی شرح تقریبا19 فیصدہے۔ یونیسیف کے  اندازے کے مطابق پاکستان میں ان بچوں کی تعداد 2 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ یہ  حکومت کا اور ہم سب کا فرض ہے کہ ان تک تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔  ہمیں ان بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ علما بھی یہ  تجویز پیش کر چکے ہیں کہ مساجد کو فجر سے لیکر ظہر تک  سکول نہ جانے والے بچوں کو تعلیم دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ، ہمیں اپنے لوگوں کو ہنر پر مبنی تعلیم دینا بھی ہوگی ۔