اسلام آباد،4اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیراقتصادی امورسردارایازصادق نے کہاہے کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے دنیاکیلئے انتباہ ہے، پاکستان کواس وقت عالمی امداد کی ضرورت ہے، جتنی زیادہ اورجلد پاکستان کی معاونت ہوگی اسی رفتار سے ہم مزید انسانی زندگیوں کوبچانے کے قابل ہوسکیں گے۔
جنیوا میں منعقدہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے اقوام متحدہ کی فلیش اپیل 2022 کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے اسلام آباد سے اپنے ورچوئل خطاب میں وفاقی وزیرنے کہاکہ ہمیں سمجھنا چاہئیے کہ پاکستان میں حالیہ بارش سے جوتباہی ہوئی ہے یہ دنیا کیلئے ایک انتباہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی بھاری قیمت پاکستان کواداکرنی پڑی حالانکہ ماحول کونقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصدسے بھی کم ہے جبکہ ان تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے سرفہرست ممالک میں پاکستان شامل ہے، ضرورت اس امرکی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے عالمی فنڈ میں پاکستان کو اس کا حصہ دیاجائے۔
سردارایازصادق نے کہاکہ پاکستان میں اس سال جون سے لیکرستمبرتک مسلسل بارشیں ہوئیں اور یہ ایک غیرمعمولی صورتحال تھی۔روایتی طورپرپاکستان میں دریائوں میں طغیانی کی وجہ سیلاب آتے رہے ہیں تاہم اس باریہ تباہی غیرمعمولی بارشوں کی صورت میں آسمان سے نازل ہوئی ، بعض علاقوں میں مسلسل 8 سے لیکردس دنوں تک بارشیں ہوئی جس سے ملک میں سڑکوں، ریلوے ٹریکس اوربنیادی ڈھانچہ کوشدید نقصان پہنچاہے،ہمارااندازہ تھا کہ بعض علاقوں میں 50 فیصد زیادہ بارشیں ہوں گی تاہم کئی علاقے ایسے ہیں جہاں 700 سے لیکر1700 فیصد تک زیادہ بارشیں ریکارڈکی گئیں۔انہوں نے کہاکہ مسلسل بارشوں کی وجہ سے انتظامیہ ہیلی کاپٹرز کے زریعہ بھی امداد پہنچانے سے بھی قاصررہے، اس وقت کئی علاقوں میں سیلابی پانی کھڑاہے اورجیسے ہی پانی اترے گا ،ان علاقوں میں تعمیرنو اوربحالی کی سرگرمیوں کاآغاز ہوگا۔
وفاقی وزیرنے کہاکہ حالیہ بارشوں اورسیلاب سے 1600 سے زائد انسانی زندگیاں لقمہ اجل بنیں، اس کے علاوہ زراعت اورلائیوسٹاک کوشدید نقصان پہنچا، 11 لاکھ مال مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرمتاثرہ علاقوں میں امداد بروقت نہیں پہنچی توخدانخواستہ مزیدہلاکتیں بھی ہوسکتی ہے۔
ورچوئل خطاب میں وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہ پاکستان اور دنیا کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان میں ہولناک سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں، بحیثیت انسان یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ مصیبت زدہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اکٹھے ہوں۔ انہوں نے پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مشکلات اور تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے کوششوں کو مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے اقوام متحدہ کی فلیش اپیل حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ نے مشترکہ طور پر سیلاب کی صورتحال کے بارے میں زمینی صورتحال اور ضروریات کے تازہ ترین جائزے کی بنیاد پر شروع کی ہے۔
حکومت پاکستان کی طرف سے وزارتی سطح پر وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے جنیوا میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور سردار ایاز صادق اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے اسلام آباد سے ورچول شرکت کی۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارٹن گرفتھ اور ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ڈاکٹر ٹیڈوس ایڈہینم نے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس کے ساتھ اقوام متحدہ کی نمائندگی کی۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں اور قدرتی آفات سے نجات کے شعبے میں کام کرنے والی انسانی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
قبل ازیں سیلاب متاثرین کےلئے پاکستان اور اقوام متحدہ کی مشترکہ نظرثانی شدہ فلیش2022 اپیل کا جنیوا میں آغاز ہوگیا۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کے ہولناک سیلاب متاثرین کی امداد اوربحالی کےلئے یہ مہم حکومت پاکستان اور اقوا م متحدہ نے شروع کی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسف کے نمائندہ نے کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے لاکھوں بچے بھی متاثر ہوئے اور تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سکولوں کی بحالی کیلئے حکومت پاکستان سے تعاون کیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈوس ایڈہینم نے فلیش اپیل کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے سیلاب متاثرین کیلئے ریسکیو اور ریلیف کا بہترین کام کیا، سیلاب کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان کو دنیا کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو محفوظ مقام پرمنتقل نہ کیا گیا تو وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کی قیمت ادا کر رہا ہے حالانکہ اس پراس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔











