چترال؛بارانی علاقے دولوموس میں مائیکرو واٹر شیڈ منیجمنٹ منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا
چترال،17 اکتوبر (اے پی پی): چترال کے بارانی علاقے دولوموس میں مائیکرو واٹر شیڈ منیجمنٹ منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا ہے جس کے تحت 119 ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کیا جائے گا۔
اس حوالے سے دولوموس میں ایک تقریب منعقد کی گئی ، تقریب کے مہمان خصوصی ڈائیریکٹر جنرل سائل اینڈ واٹر کنزرویشن خیبر پختونخوا محمد یسین خان تھے جبکہ ان کے ہمراہ چترال یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظاہر شاہ،ڈسٹرکٹ آفیسر امین الحق وغیرہ بھی موجود تھے۔
شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائیریکٹر جنرل محمد یسین خان وزیر نے کہا کہ ہمارے پاس دو نہایت قیمتی قدرتی وسائل ہیں۔ پانی اور مٹی یعنی زمین کے ان دو وسائل کے ذریعے نہ صرف انسان بلکہ دیگر جاندار بھی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذرعی ملک ہے مگر اہم اپنے اناج کے پیدوار میں خود کفیل نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گندم وغیرہ باہر سے منگواتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے سابقہ وفاقی حکومت نے وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی کے تحت ایک پروگرام شروع کروایا تھا اس میں ایک پراجیکٹ خیبرپختونخوا کے بارانی علاقوں میں واٹر کنزرویشن تھا اس پروگرام کے تحت آج اس منصوبے کا افتتاح ہوا ہے ۔ اس میں پانی کو سٹور کرکے بنجر زمین کو زرعی زمین میں تبدیل کیا جائے گا۔اس منصوبے پر کل 60 لاکھ کی لاگت آئے گی جس میں 10 لاکھ زمین کا مالک یعنی مقامی کمیونٹی ادا کرے گی اور 50 لاکھ روپے حکومت کی فنڈ سے خرچ ہوگا ۔جس سے جنگلی اور پھل دار دونوں قسم کے پودے لگائے جائیں گے۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اس قسم کے کامیاب منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں جس کا بہت اچھا نتیجہ سامنے آرہا ہے۔اس موقع پر انہوں نے ایک خوشحبری سنائی کہ اسلامک ڈیویلپمنٹ بنک کے ساتھ اس سلسلے میں ایک معاہدہ طے ہوا ہے جس کے تحت وہ ایک ارب کا گرانٹ دے گا۔ جس سے ہم آٹھ ہزار ایکڑ زمین کو زیر کاشت لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں ہم چترال کو زیادہ فنڈ دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ ایک پسماندہ ضلع ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ یہاں زیادہ سے زیادہ منصوبوں پر کام شروع کریں تاکہ یہاں کے بنجر زمین کو ہم زیر کاشت لاکر یہاں پودے لگائے جائیں اور لوگوں کی معاشی زندگی بہتر ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ چند سالوں میں آپ کو یہاں کی صحرائی یعنی بارانی زمین جو بنجر پڑی ہے وہ سرسبز نظر آئے گی۔اس پراجیکٹ میں ہم یہاں کے بنجر پہاڑوں اور زمین پر پودے، درخت لگاکر ان کو سرسبز بنائیں گے اور امید ہے کہ مقامی لوگوں کی تعاون سے یہ منصوبہ کامیاب ہوگا۔
وائس چانسلر جامعہ چترال پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے اس منصوبے پر نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت مفید منصوبہ ہے اور اس سے زمین کی کٹائی اور پانی کے ضیاء پر قابو پایا جائے گا کیونکہ ہمارے ملک میں کافی پانی سیلابوں کی شکل میں ضائع ہورہا ہے۔انہوں نےکہا کہ اس سے ماحولیات پر بھی نہایت اچھے اثرات پڑیں گے کیونکہ ہم جتنے زیادہ پودے لگائیں گے اس سے زمین کی کٹائی بھی رک جائے گی اور یہ ہمیں تازہ آکسیجن بھی دیتے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ چترال یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو بھی اس فیلڈ میں تحقیق کیلئے یہ ایک اچھا پلیٹ فارم میسر ہوگا۔
کرنل شہزادہ محمد شریف نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اس ادارے کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی تعاون سے چترال کی بنجر زمین اب ایک زرعی زمین میں تبدیل ہوگی جس سے یہاں سے غربت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا اور ہمارے قدرتی وسائل بھی ضائع ہونے سے بچ جائیں گے۔
پروگرام کے آخر میں ڈایریکٹر جنرل محمد یسین خان نے نقب کشائی کرتے ہوئے اس منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے سے مقامی لوگوں کی امید پیدا ہوئی ہے کہ اب یہاں کی ہزاروں ایکڑ بنجر زمین جو بے کار پڑی ہے اس سے بھی وہ حکومتی امداد کے بدولت استفادہ کرسکیں گے۔











