فیصل آباد،26 نومبر (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی14 لاکھ ایکٹو طلباو طالبات کے ساتھ ڈسٹنس لرننگ(فاصلاتی نظام تعلیم) میں ایشیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن گئی ہے جبکہ ایلومینائز اس کے علاوہ ہیں نیزاس وقت فیصل آباد سمیت ملک بھر میں اس کے 53ریجنل سینٹرزقائم اورتمام تعلیمی شعبہ جات کو کور کررہے ہیں جو پاکستان کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے۔
ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی فیصل آبادڈاکٹر بشیر احمد صمیم نے اے پی پی سے بات چیت کے دوران بتایا کہ اگر انٹر نیشنل ر یکنائزیشن کے حوالے سے دیکھا جائے توعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اس وقت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے کیونکہ دنیابھرکے30سے زائدممالک کے طلبا و طالبات اس وقت مذکورہ جامعہ میں داخلہ لئے ہوئے ہیں۔
ڈسٹنس لرننگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کاماٹو ایجوکیشن فار آل اینڈ ایجوکیشن فار ایٹ یورڈور سٹیپ یعنی تعلیم سب کیلئے اور گھر کی دہلیز پرہے جس میں ہم بہت حد تک کامیاب رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس رینج اس وقت ملک کے طول و عرض کے بیشتر ایریاز میں پھیلی ہوئی ہے اور وہ1.4ملین سٹوڈنٹس باڈی کے ساتھ پورے پاکستان میں کم و بیش تمام شعبہ جات میں طلبا و طالبات کو بین الاقوامی معیار کے زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر بشیر احمد صمیم نے میٹرک سے بات شروع کرتے ہوئے بتایا کہ جس بچے کی عمر 13سال ہو جائے وہ یونیورسٹی کے میٹرک سیکشن میں داخلہ لے سکتا ہے جس کیلئے گزشتہ سالوں میں مڈل پاس کرنا لازمی تھا لیکن اب اس شرط کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جس کے باعث اب یونیورسٹی کو طلبا و طالبات سے مستقبل میں مڈل پاس کا کوئی سر ٹیفکیٹ درکار نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر بشیر احمد صمیم نے بتایا کہ اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیر اہتمام درس نظامی میں درس نظامی عامہ اور ہمارے مدرسہ جات کیلئے اوپن تعلیم کی سہولیات میسر ہیں جس کے تحت متعلقہ میل یا فی میل طالبعلم2سال درس نظامی میں اور کل 4سال ان کے پاس لگائے گا،اسی طرح ایف ا ے جنرل کے ساتھ درس نظامی خاصہ اوراس کے علاوہ اوپن کورسز ایف اے میں بھی ہیں۔
میٹرک اور ایف اے کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ وہ یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان، بلوچستان اور سندھ کے جودیہی و پسماندہ علاقے ہیں وہاں اوپن یونیورسٹی مفت تعلیم مہیا کر رہی ہے لہٰذا ان رورل و ریموٹ ایریاز کے بچے بغیر فیس مفت داخلہ لے سکتے ہیں نیزسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں یونیورسٹی کی جانب سے تمام طالبعلموں کو ایک سمیسٹر فی بچہ فیور دیاگیا ہے۔
ریجنل ڈائریکٹر نے بتایا کہ بیچلرز میں اوپن یونیورسٹی کے پاس بہت وسیع و عریض ایجوکیشن سسٹم موجود ہے جو ڈسٹنس لرننگ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجوایٹ لیول پر بھی یونیورسٹی اعلیٰ معیار کی تعلیمی و تدریسی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری و ساری رکھے ہوئے ہے اورچونکہ حکومت نے2سالہ گریجوایٹ اور2سالہ ماسٹر زپروگرامز کو بند کردیا ہے لہٰذا اس کے متوازی نیابی ایس پروگرام دیاگیاہے جس کے تحت2سال کے بیچلر بچوں کو برجنگ سمیسٹر کے ساتھ 5ویں سمیسٹر میں داخل اور اسے بی ایس کی متعلقہ سکیم میں ایکٹو کیا جا ئے گاتاکہ بچہ 16سال کی بی ایس تعلیم مکمل کر سکے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اگلے سمیسٹر میں پوری پلاننگ کے ساتھ اس پروگرام کو لیکرمارکیٹ میں آئے گی جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا ڈسٹنس لرننگ میں منفرد اور طلبا و طالبات کیلئے انتہائی مفید نتائج کا حامل ہوگا۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی فیصل آبادریجنل کیمپس کے حوالے سے ڈاکٹر بشیر احمد صمیم نے بتایا کہ اس وقت ان کے پاس20 ہزار سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں جن میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی ٹیمیں فیصل آباد کے دور درازدیہاتی علاقوں میں وزٹ کرتی ہیں جہاں ان کے سٹڈی سینٹرز میسر ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہاں کے سٹڈی سینٹرمیں بھی بہت امپروومنٹ کی ہے جس کے ساتھ ساتھ وہ سوشل میڈیا پر بھی ہمہ وقت ایکٹواور عوام تک تمامتر سہولیات پہنچا رہے ہیں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کورسز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا سلیبس عالمی معیار کا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ بچوں کیلئے کوالٹی اساتذہ میسر ہوں۔ریجنل ڈائریکٹر نے بتایا کہ اس کیلئے ان کاخود کار نظام اساتذہ کی سلیکشن کرتاہے جس کیلئے پہلے وہ پی ایچ ڈی کوترجیح دیتے ہیں پھر ایم فل کو اور اگراس کے بعد کوئی گنجائش بچے تو پھر ماسٹر اساتذہ کوزیر غور لایا جا تا ہے تاہم یونیورسٹی کی کوشش ہو تی ہے کہ تحصیل لیول پر ہی اساتذہ کی سلیکشن ہوجس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جو اساتذہ کسی سرکاری ادارہ میں پڑھا رہے ہیں وہ ایوننگ میں ان کے بچوں کو بھی پڑھاسکیں۔











